لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 47 افراد مارے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 47 افراد مارے گئے ہیں۔ یہ اس وقت ہوا ہے جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے چار فوجی مارے گئے۔
بی بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان کی وزارت صحت نے ابتدا مین کہا تھا کہ رات بھر اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں - جبکہ اسرائیلی فوج کے چار فوجی ٹینکوں پر گائیڈڈ میزائلوں کے حملے میں مارے گئے۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ سے منسلک 80 اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کے "درجنوں" ارکان کو ہلاک کر دیا۔
بعد میں جمعہ کی شب بتایا گیا کہ جنوبی لبنان میں درجنوں حملوں میں مارے جانے والے حزب اللہ کے کارکنوں اور دیگر افراد کی تعداد بڑھ کر 47 ہو گئی ہے۔
جنوبی لبنان میں شدید جنگ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو ختم کرنا ہے، جس میں لبنان میں دشمنی کا مستقل خاتمہ بھی شامل ہے لیکن اس معاہدہ میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا اتحادی ملک اور اسرائیل شریک نہیں۔ امریکہ کے اتحادی عرب ملکوں نے تو ایم او یو کی حمایت کی ہے لیکن اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ جنوبی لبنان میں جنگ امریکہ کے کہنے پر روکنے سے عملاً انکار کر دیا ہے۔
معاہدے کے اعلان کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف حملے کیے ہیں، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
امریکہ ایران معاہدے میں تمام محاذوں پر دشمنی کے خاتمے اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لبنان کے محاذ سے اسرائیل پر حملے ایران پر اسرائیل کے حملوں کے فوراً بعد ہی شروع ہو گئے تھے۔ اسرائیل کی فوج نے حزب اللہ کے راکٹوں کا جواب دینے کے لئے ماضی کی طرح ہوائی حملے کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی فوج جنوبی لبنان میں بھیج دی جو اب حالیہ صدی مین جنوبی لبنان مین اسرائیل کی سب سے بڑی موجودگی ہے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بند کرنے کے لئے کہا ہے لیکن اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس نے اصرار کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ اس کا تنازعہ ایران کے خلاف جنگ سے الگ ہے۔
نباتیہ میں اب تک سب سے شدید حملے
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو جنوبی لبنان کے ضلع نباتیہ میں رات بھر کی بمباری کو جنگ کا سب سے شدید ترین واقعہ قرار دیا ہے، جس میں کم از کم 18 افراد ہلاک، 33 زخمی اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
حزب اللہ نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی گروپ پر گھات لگا کر تین ٹینکوں کو گائیڈڈ میزائلوں سے تباہ کر دیا اور فوجیوں کو راکٹوں اور توپ خانے سے نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے چار فوجیوں س کے مرنے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو سوشل پلیٹ فارم پرلکھا کہ انہوں نے آئی ڈی ایف کو ہدایت کی ہے کہ "حزب اللہ پر پوری طاقت سے حملہ کریں"۔
نیتن یاہو نے کہا کہ "میری ہدایت واضح ہے: اسرائیل اپنے فوجیوں یا ہماری سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا، اور وہ ان حملوں کی حزب اللہ بہت بھاری قیمت ادا کرے گی۔"
لبنان کی اسرائیل حزب اللہ جنگ میں غیر جانبدار حکومت کے صدر جوزف عون نے کہا کہ "اسرائیلی حملوں میں توسیع ایک خطرناک اور قابل مذمت اضافہ ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ اس سے "جلد سے جلد ایک جامع جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کو روکا نہیں جائے گا"۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں 4اسرائیلی فوج ہلاک
لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد اسرائیل پر حملے شروع کر دیئے تھے۔ ھذب اللہ نے اپنے حملوں کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کا انتقام قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے جواب میں لبنان بھر میں بمباری کی مہم شروع کر دی اور جنوب میں ملک کے تقریباً 5 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا، جس کا مقصد حزب اللہ کے جنگجوؤں کو اپنی شمالی سرحد سے پیچھے ہٹانا بتایا گیاتھا۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، تازہ ترین تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 3,912 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں اور مزید 11,699 دیگر زخمی ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کی زمینی جنگ کے سبب لگ بھگ دس لاکھ لوگ بے گھر ہیں، جبکہ جنوب میں درجنوں کمیونٹیز مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
حزب اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک اسرائیل کا حملہ جاری رہے گا اپنے حملے جاری رکھے گا۔
رائٹرز خدیجہ عمارہ ایک جیری کین پانی سے بھر رہی ہیں جب وہ ایک گھر کے ملبے کے درمیان بیٹھی ہیں، جسے اسرائیلی حملے سے نقصان پہنچا تھا، جنوبی لبنان کے ضلع صور کے قلیلہ میں