ایران پر پابندیاں ہٹاناایران کے رویہ پر منحصر ہوگا، جے ڈی وینس
اسرائیل کو ہمارے معاہدہ کا احترام کرنا پڑےگا، بیروت میں حملے ناقابل قبول ہیں: جے ڈی وینس کی وائٹ ہاأؤس میں بریفنگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کے نافذ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے ایک رات میں ایک کروڑ بیس لاکھ بیرل کروڈ آئل گزرا ہے۔ ایران پر پابندیاں ہٹاناایران کے رویہ پر منحصر ہوگا۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، ایران مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کھولنے کی شق پر عمل کر رہا ہے۔
جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں طے ہونے والا 60 روزہ دورانیہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔ اس ساٹھ دنوں کے دوران امریکہ اور ایران کو ایران کی یورینیم کے ذخیرے، نیوکلئیر پروگرام اور کئی دوسرے اہم مسائل پر تفاصیل طے کرنا ہیں۔
جے ڈی وینس نے اس نیوز بریفنگ میں کہا کہ ایران کی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں تباہ ہوچکی ہیں، ایران بھی اب اپنی معیشت کو بہتر بنانا چاہتا ہے، ایران کا رویہ بہتر رہا تو یہ ایران کے مفاد میں ہی ہوگا۔
نائب صدر وینس نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائل بنانے والی بہت سی تنصیبات کو تباہ کیا ہے، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران علاقائی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ نہ کرے۔
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے متعلق سوالات کے جواب میں جے ڈی وینس نے بتایا کہ حتمی معاہدے میں بات ہوگی کہ ایران کے پاس دنیا کے لیے خطرہ بننے والے میزائل نہ ہوں۔ اس کے صاتھ وینس نے کہا کہ ایران کو اب اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔ ایران پر پابندیاں ہٹاناایران کے رویہ پر منحصر ہوگا، جے ڈی وینس
ایران پر پابندیاں ہٹانے کے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران پر پابندیوں کے معاملے میں زیادہ رعایت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ ایران لین دین کیسے کرتا ہے، ہم کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی عارضی طور پر ایران سے پابندیاں ہٹا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟
اسرائیل کے متعلق سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
ایران سے معاہدہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے، خلیجی ممالک کو یہ معاہدہ اچھا لگا ہے کیونکہ اس سے ایران کمزور ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں لبنان میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو تاکہ اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ رہے، اسرائیل کو خطرہ نہیں ہوگا تو اسرائیل بھی جنوبی لبنان یا بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔
سوالات کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی تک منجمد اثاثے بحال نہیں کریں گے، خطے میں امریکی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ہی رہے گی، نیتن یاہو کا اعلان