اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ہی رہے گی، نیتن یاہو کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں اپنے بنائے ہوئے سیکیورٹی زون میں موجود رہے گی۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ کے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کے بعد بھی جنوبی لبنان سے اپنی فوج نکالنے سے واضح انکار کر دیا اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق زور دے کر کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجی دستبردار نہیں ہوں گے اور جب تک ضرورت ہو گی وہاں اپنا سکیورٹی زون برقرار رکھیں گے۔
" نیتن یاہو نے روٹ 60 کو چوڑا کرنے کے لیے ایک افتتاحی تقریب میں کہا، ایک شمال-جنوبی شاہراہ جو کہ مغربی کنارے سے گزرتی ہے، ناصرت سے بیر شیبہ تک پھیلی ہوئی ہے۔"ہم شمال کی سلامتی کو بحال کریں گے… اس کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؛ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم وہاں سے نہ نکلیں،
اسرائیل کی افواج نے لبنان میں اپنے سیکورٹی زون کا ایک تازہ ترین نقشہ شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اس علاقے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟
گزشتہ دنوں کے دوران ایران نے بارہا کہا ہے کہ نئی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر ہوتا ہے، جہاں 2 مارچ کو حزب اللہ نے تہران کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر حملہ کر کے نئے سرے سے جنگ کا آغاز کیا تھا اور اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں گھس گئی تھی۔ اس کے بعد سے اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان کے متعدد شہروں، قصبوں اور گاؤں میں حزب اللہ سے لڑ رہے ہیں اور درجنوں دیہات کو خالی کروا کر تمام گھروں کو مسمار کر چکے ہیں۔
نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ یروشلم اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ سختی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
نیتن یاہو امریکہ میں اپنی لابی کو متحرک کریں گے: سی این این
سی این این کنے اپنی ایک رپورٹ مین بتایا ہے کہ جیسے ہی امریکہ اور ایران مذاکرات کی تجدید کرتے ہیں، وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ میں اسرائیل نواز سینیٹرز اور دائیں بازو کی میڈیا شخصیات کو حتمی معاہدے کی شرائط پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سی این این نے اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدہ ہو جائے گا لیکن تہران اس کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا۔