سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس 

Jun 19, 2025 | 18:55:PM
سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس 
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سید نوید قمر  نے کہا کہ کاروباری لوگوں کے ساتھ زبردستی کی بجائے نرمی سے کام چلایا جائے۔انھوں نے قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران وزارت خزانہ کے حکام سے سوال کیا کہ کاربن لیوی سے کتنی رقم حاصل ہو گی؟جس پر وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ اس سے مجموعی طور پر 45 ارب روپے حاصل ہوں گے۔نوید قمر نے پوچھا کہ اگر یہ کاربن ٹیکس بن جائے تومرکز کو کتنا ٹیکس ملے گا، اس پر وزیر مملکت خزانہ نے جواب دیا کہ ایسا ہوا تو 18 ارب مرکز کو ملیں گے۔

وزیر خزانہ نے پوچھا  کہ یہ کاربن ٹیکس کی بات کہاں سے آئی جس پر  چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ یہ معاملہ آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں آیا،سیلز ٹیکس میں ہم کسی کو ریلیف نہیں دے سکتے ہیں، ایمینسٹی اور رعایتی اسکیموں کی کوئی کنجائش نہیں ہے ،ہر کسی کو اپنے حصہ کا ٹیکس  ادا کرنا ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے،ایف بی آر نے کمشنرز کو ٹوکہ پکڑا دیا ہے،اب تک کتنی بجلی اور گیس کنیکشن کاٹے گئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر  نے بتایا کہ بجلی اور گیس کے میٹرز لوگوں کے نام پر نہیں ہوتے ، اس پر نوید قمر نے کہا کہ ہم تو اختیار انکے لیے مانگ رہے ہیں  جو رجسٹر ہونے کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔

چیئرمین ایف بی آر  نے بتایا کہ ہم تیار ہیں کہ پہلے نوٹس کے بعد ہمارا بندہ اس کو سلام کر آئے، ہم اکاونٹ بلاک کرنے کے دو دن بعد اسکو کھول دینے کو تیار ہیں،مگر لوگ ڑجسٹر ہونے کو تیار ہی نہیں ہوتے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم پہلے نوٹس دیں گے پھر معاملہ کمیٹی کو بھیج دیں گے اور حتمی فیصلہ کمیٹی کرے گی، اگر لیوی ہو گی تو صرف مرکز کو ملے گی اگر ٹیکس ہوگا تو صوبوں کو بھی حصہ ملے گا ۔

یہ بھی پڑھیں :190ملین پاؤنڈ کیس 26جون کو سماعت کیلئے مقرر