ہرجماعت کی عددی برتری کے مطابق سینٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے:سپریم کورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سینٹ انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ہر جماعت کی عددی برتری کے مطابق سینٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے ۔ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متناسب نمائندگی پر فرق نہیں پڑتا ۔ ووٹ خفیہ رکھنے کے پیچھے کیا منطق تھی ۔ رضا ربانی نے دلائل دیئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے سینیٹ میں نشستوں کا تناسب بدل سکتا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ جواب جمع کرانا تھا۔ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا جواب جمع کرا دیا ہے جو پہلے جواب سے ملتا جلتا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جواب کو دیکھ لیں گے۔
رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوشش کروں گا اپنے دلائل مختصر رکھوں، عام طور پر ارکان اسمبلی کو اچھا وکیل نہیں سمجھا جاتا۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا آپ سینیٹر اور سنجیدہ وکیل ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ سینٹ کے قیام کا مقصد تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے، جو خود کو الگ سمجھتے تھے انہیں نمائندگی دینے کے لیے سینٹ قائم ہوئی، پارلیمانی نظام میں دونوں ایوان کبھی اتفاق رائے سے نہیں چلتے۔بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔