نورِ سحر  میں  " حقوقِ نسواں اور اسلام " کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست 

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے خواتین کے حقوق پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عورت کی عزت کا تحفظ قانون، دین اور اجتماعی ذمہ داری تینوں کا مشترکہ تقاضا ہے

Dec 19, 2025 | 10:36:AM
 نورِ سحر  میں 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " حقوقِ نسواں اور اسلام "تھا۔

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے خواتین کے حقوق پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عورت کی عزت کا تحفظ قانون، دین اور اجتماعی ذمہ داری تینوں کا مشترکہ تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ ایک سنگین جرم ہے اور پاکستان کے قوانین اس حوالے سے بالکل واضح ہیں، مگر بدقسمتی سے سماجی دباؤ اور خاموشی مجرموں کو تقویت دیتی ہے۔

ڈاکٹر خدیجہ عثمان نے  ہراسمنٹ کیسز میں مجرم کی نفسیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکثر مرد یہ سمجھتے ہیں کہ متاثرہ خاتون بدنامی کے خوف سے خاموش رہے گی اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے، جو ایک نہایت خطرناک اور قابلِ مذمت سوچ ہے۔

انہوں نے  ایک معصوم بچی کے لرزا دینے والے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ والدین کی بے جا خاموشی کئی بار ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ 

پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے کہا کہ خواتین کے حقوق کی پامالی کی بنیادی وجہ اخلاقی اور تعمیری شخصیت کا فقدان ہے، نہ کہ دینِ اسلام۔

انہوں نے قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں واضح کیا کہ اسلام عورت کو کام کرنے، معاشی خودمختاری حاصل کرنے اور سماجی ترقی میں کردار ادا کرنے کی مکمل اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے صحابیاتؓ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اسلامی معاشرہ خواتین کی معاشی اور سماجی شمولیت کی روشن مثال پیش کرتا ہے۔

ڈاکٹر عفاف منظور نے پاکستانی خواتین کی صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں صرف 22 فیصد خواتین ورکنگ ویمن ہیں، جو سماجی رکاوٹوں اور مواقع کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ عورت کی سب سے بڑی ذمہ داری نسلِ نو کی تربیت ہے، مگر اس کے لیے عورت کا باشعور اور بااختیار ہونا ناگزیر ہے۔

انہوں نے بچیوں میں اعتماد پیدا کرنے اور والدین سے مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کا رشتہ احترام، مشاورت اور باہمی تحفظ پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ جبر یا خاموشی پر۔

پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے کہا کہ اصل مسئلہ دین نہیں بلکہ وہ سماجی رویے ہیں جنہیں مذہب کے نام پر رائج کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام نے عورت کو رائے دہی اور ووٹ کا حق قرونِ اولیٰ میں ہی عطا کر دیا تھا۔

انہوں نے  کھیتوں، کھلیانوں، کارخانوں اور گھروں میں محنت کرنے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ محنت کش خواتین ملک و ملت کی ترقی کی ضامن ہیں اور ان کی عزت دراصل پوری قوم کی عزت ہے۔