ملک کی بغاوت جیسی صورتحال ، تمام فیصلے ایک دماغ کر رہا ہے:مولانا فضل الرحمن

May 18, 2026 | 19:27:PM
ملک کی بغاوت جیسی صورتحال ، تمام فیصلے ایک دماغ کر رہا ہے:مولانا فضل الرحمن
کیپشن: ملک کی بغاوت جیسی صورتحال ، تمام فیصلے ’’ایک دماغ‘‘ کر رہا ہے:مولانا فضل الرحمن
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پورے ملک میں بغاوت جیسی صورتحال ہے، تمام فیصلے ’’ایک دماغ ‘‘ کر رہا ہے ، انہوں نے مقتدر حلقوں، انتخابی نظام اور حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت انتہائی گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے۔

 جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے  کراچی میں ’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ، انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس وقت بغاوت جیسی صورتحال ہے، جہاں ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی جا چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ  کوئی علیحدگی کی بات کر رہا ہے تو کوئی زبردستی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے یہاں تک کہ مسلح دستے فوج کے قلعوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،  اندرون سندھ میں اس وقت ڈاکووں کا راج قائم ہے، فضل الرحمن نےاسٹیبلشمنٹ پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران امن و امان اور معیشت پر سنجیدہ نہیں ہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی فکر میں ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف نے کہا کہ  پارلیمنٹ اور حکومت پر وہ اثر انداز ہیں اور ایک ادارہ جب چاہے آئین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آئین اور پارلیمنٹ کے لیے حکم "ایک محل" سے آتا ہے اور ملک طویل عرصے سے محلاتی سازشوں کا شکار ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے  2018ء اور 2024ء کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں الیکشنز میں عوام کی مرضی کے خلاف حکومتیں بنائی گئیں، جبکہ عوام ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پورا ملک اور اس کے چاروں صوبے کثیرالقومیت پر مبنی ہیں، لیکن قوم کو کمزور اور تقسیم کرنے کی پالیسیاں چل رہی ہیں۔ عوام کو جبر پر اطاعت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہ کام تو فرعون نے کیا تھا۔ جب ایک دماغ سارے فیصلے کرتا ہے تو یہ اسلام کے بھی خلاف ہے، کیونکہ اسلام میں ’’شوریٰ‘‘ (مشاورت) کا حکم ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف نے کہا کہ عالمی اور علاقائی تنازعات پر بات کرتے ہوئے  کہ ایران اور امریکہ کی ممکنہ جنگ میں پاکستان کے پاس صرف ثالثی کا راستہ ہے، ہمارے لیے کسی کا فریق بننا انتہائی مشکل ہوگا،پاکستان اور افغانستان دو اہم پڑوسی ملک ہیں جن کے بیچ تحفظات موجود رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف پشتون آباد ہیں، اس لیے ہم ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں،ہم افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں، اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ابھی کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آئی ہے، تاہم کچھ دوست اس پر ڈائیلاگ کر رہے ہیں، ہم اس نظام کے اندر رہ کر بات چیت کریں گے، نظام کو اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی کوئی بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہم نے پی پی، مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اس کی اصلی حالت میں بحال کیا تھا، جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا، لہذا پارلیمنٹ کے فیصلوں کو حقیر نہ سمجھا جائے،ہم نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلائی، جنرل مشرف کے آمریت کو مسترد کیا اور ہمیشہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آخر میں سیاستدان ہی کمپرومائز (سمجوتہ) کر جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر جمہوریت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور سرمایہ داریت  کھل کر سامنے آ رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ بھی ایسی ہی ہے، جس سے آنے والے وقت میں دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ آمریت اور عسکریت پسندی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام اب غلامی قبول نہیں کریں گے اور آئین کا تحفظ کرنا اب عوام ہی کا کام ہے۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 2024 کے عام انتخابات میں سیاسی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں نسبتاً کمزور رہی تھی، پارٹی نے قومی اسمبلی میں محدود نشستیں حاصل کیں، تاہم خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اس کی موجودگی برقرار رہی۔

انتخابات کے بعد جے یو آئی (ف) نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا، پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بعض حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور نتائج پر اعتراضات اٹھائے،قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) نے تقریباً 4 نشستیں حاصل کیں۔

 جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی پارٹی نے چند نشستیں جیت کر اپنی نمائندگی برقرار رکھی، انتخابات کے بعد جے یو آئی (ف) حکومت کا حصہ نہیں بنی بلکہ کئی معاملات پر اپوزیشن جیسا مؤقف اختیار کرتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں :’’ سائیکو‘‘ کا ٹریلر جاری، بڑی عید پر ریلیز ہوگی