14 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوچکا ہے گوہر اعجاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ 14 سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوچکا ہے ،معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈالر کا مارکیٹ ریٹ مقرر کیا جائے،معاشی ترقی کے اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے پیغام میں سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا کہناتھاکہ جون میں پاکستان کا ریئیل ایفکٹو ریٹ 96.6 فیصد رہا ہےپاکستانی روپیہ انڈر ویلیو ہے تاہم پاکستان مثبت معاشی ترقی کے راستے پر چل رہا ہے،ان کا کہناتھاکہ معاشی ترقی کے اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے،اس سے تین سال کی محنت ضائع ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق ایکسچینج ریٹ کو مانیٹر کرے ،4.5 فیصد مہنگائی کے تناسب سے 11 فیصد شرح سود نا قابل فہم ہے،11 فیصد شرح سود کی کوئی معاشی توجیہ نظر نہیں آتی۔
سابق نگران وزیر کا کہنا تھاکہ سرپلس کرنٹ اکاؤنٹ مستقل معاشی پالیسیوں اور مستحکم ایکسچینج ریٹ کا نتیجہ ہے،پاکستان اسٹاک ایکسچنج 1 لاکھ 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر پہنچ چکی ہے،پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں 58 ارب ڈالرز کا کاروبار ہوا ہے۔
گوہر اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے معیشت کو بڑھانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا