یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کی  فلسطینی جیکٹ  پہن کر  ہیگ کانفرنس میں شرکت

Jul 18, 2025 | 17:21:PM
یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کی  فلسطینی جیکٹ  پہن کر  ہیگ کانفرنس میں شرکت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)کولمبیا اور جنوبی افریقہ کی مشترکہ صدارت میں، کولمبین درالحکومت بوگوٹا میں منعقد ہوئی ہیگ گروپ کی ہنگامی کانفرنس کے دوران، یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی-فلسطینی رکن ریما حسن نے ایک روایتی فلسطینی جیکٹ ’تقصیرہ‘ پہن کر اپنے وطن کے ساتھ یکجہتی کا پُرجوش اظہار کیا اور محصور فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کے ذریعے جاری نسل کشی کی مذمت کی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ جیکٹ سیاہ مخمل سے تیار کیا گیا تھا اور اس پر باریک سنہری کڑھائی کی گئی تھی۔ حسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ”بیت لحم کا یہ فلسطینی جیکٹ (تقصیرہ) اسرائیل سے بھی زیادہ پرانا ہے‘‘۔ فلسطینی نژاد ریما حسن ایک پرعزم فلسطینی حامی کارکن ہیں اور وہ 7ممالک سے تعلق رکھنے والے ان 12 کارکنوں میں شامل تھیں جو فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے اور فلسطینیوں تک انسانی امدادی سامان پہنچانے کے مقصد سے روانہ ہوئے جہاز میڈلین پر سوار تھیں۔

فلسطینی میوزیم کے مطابق، ”تقصیرہ“ کی تاریخ تقریباً1920اور1930 کی دہائیوں سے جا ملتی ہے ، جبکہ1948 ریاست اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے کا دور ہے۔ روایتی طور پر، بیت لحم کے ”تقصیرہ“ جیکٹس سرخ، نیلے، سبز یا بھورے جیسے رنگوں میں چوڑے اونی کپڑے سے بنائی جاتے تھے اور ان پر ریشمی دھات (قصاب) کے دھاگے کا استعمال کرتے ہوئے کوچنگ اسٹچز سے کڑھائی کی جاتی تھی۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی کے وسط تک، مخمل نے چوڑے کپڑے کی جگہ لینا شروع کر دی اور جیکٹس تیزی سے گہرے نیلے یا جامنی مخمل میں بنائے جانے لگیے۔ یہ جیکٹ مخمل اور ریشم سے بنایا جاتا ہے جس میں سوتی استر لگا ہوتا ہے اور اس پر ’تحریری‘ (کوچنگ) اسٹچز کا استعمال کرتے ہوئے سنہری دھاگوں سے کڑھائی کی جاتی ہے۔”تقصیرہ“ اپنی چھوٹی آستینوں کی وجہ سے ممتاز ہے کیونکہ اسے روایتی طور پر ’ملک‘ (بادشاہ) تھوب کے اوپر پہنا جاتا تھا۔ تھوب ایک ایسا لباس تھا جس کی لمبی، تکونی ’مرادان آستینیں‘ ہوتی تھیں۔ کڑھائی کے نقش اکثر تھوب کے نقشوں سے ملتے جلتے تھے ۔ ’فلسطینی کاسٹیوم‘ اور ’ایمبرائیڈری فرام فلسطین‘ کی مصنفہ شیلاگ وئیر کے مطابق فلسطینی خواتین نے ’’تقصیرہ‘‘ کیلئے عثمانی اور برطانوی فوجی و سرکاری یونیفارم سے تحریک حاصل کی۔ ’تقصیرہ‘ فلسطین کے جنوبی پہاڑی علاقوں، راملہ سے لے کر جنوب میں ہیبرون کی پہاڑیوں تک، ’کسواہ‘ (شادی کے جہیز) میں اہم لباس میں سے ایک بن گیا ہے۔ 

واضح رہے کہ ہیگ گروپ، جو افریقہ، ایشیاء، یورپ اور امریکہ کے ۳۰ ممالک کا ایک اتحاد ہے جن کا مقصد غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنا اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو دوبارہ قائم کرنا ہے، کا کولمبیا میں پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں چند غیر معمولی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ کولمبیا اور جنوبی افریقہ کی مشترکہ صدارت میں ہنگامی کانفرنس 12ممالک کے اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ وہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں میں قبضے کی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے قانونی، اقتصادی اور سفارتی سطح پر مربوط ۶ اقدامات کرینگے۔

یہ بھی پڑھیں:ہزار روپے کیلئے تیر کر نہر عبور کرنے کی کوشش میں بزرگ شہری جان کی بازی ہارگیا