گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کیوں کی ؟۔۔طالب علم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
عدالت کا اظہارِ برہمی ،جنگ کے دنوں میں بھی عدالتیں کھلی رہیں،مگر اسکول بند کردیئے جاتے ہیں:ریمارکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کیخلاف طالب علم عدالت پہنچ گیا ، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب سمیت متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئےمزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔طالب علم دانیال حسین کی جانب سے وکیل وقار اعوان کے توسط سے درخواست دائرکی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے بلاجواز طور پر تعطیلات میں 31 اگست تک توسیع کردی ہے، پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ایکٹ کے تحت صرف ناگہانی صورتحال میں چھٹیاں دینے کا اختیار ہے،3 ماہ تک تعلیمی سرگرمیوں کو معطل کرنا بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کے دوران جسٹس جواد الحسن نے حکومتی فیصلے پر اظہارِ برہمی کیا اور ریمارکس دیئے کہ "جنگ کے دنوں میں بھی عدالتیں کھلی رہیں، ججز اور وکلا اپنے فرائض انجام دیتے رہے، مگر یہاں کبھی فوگ اور کبھی گرمی کے نام پر اسکول بند کردیے جاتے ہیں۔ تعلیم بچوں کا بنیادی حق ہے، انہیں اس سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے کہا کہ والدین بھاری فیسیں تعلیم کے حصول کے لیے ادا کرتے ہیں، اس طرح کے فیصلوں سے ان کے بچوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب سمیت متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم ڈویژن کی نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال