پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو جھوٹا بیانیہ قرار دے دیا

Mar 17, 2026 | 16:25:PM
پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو جھوٹا بیانیہ قرار دے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ جس میں پاکستان کو کابل میں منشیات بحالی کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے اسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا ہے ،پاکستان صرف ان فوجی و دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا معاونت میں ملوث ہیں۔ 

وفاقی وزیر کے مطابق 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں کیے گئے حملے ’انتہائی درست، سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ‘ تھے،انہوں نے واضح کیا کہ کسی ہسپتال، منشیات بحالی مرکز یا کسی بھی شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ صرف عسکری اور دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا جن میں اسلحہ اور تکنیکی سازوسامان کے ذخیرے شامل تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں کی ویڈیو فوٹیج وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے فوری طور پر جاری کی گئی، جس سے اہداف کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔

 ان کے مطابق کابل میں نظر آنے والی آگ اور ثانوی دھماکے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسلحہ کے ذخیرے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ،انہوں نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی میں بھی ’جھوٹے بیانیے، مسخ شدہ دعوے، پرانی ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس میں رد و بدل‘ کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا کرتی رہی ہے، اور حالیہ الزام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی میں منشیات کےعادی افراد اور معصوم بچوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ  پاکستان کا موقف واضح ہے،ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کفایت شعاری کےدعوؤں کےبرعکس پنجاب حکومت کی وی آئی پیز کیلئےنئی گاڑیوں کی خریداری  کی منظوری