پالتو شیر گھرمیں رکھنے پرصرف50 روپے جرمانہ؟عدالت کاحکومت سےاظہارِ ناراضگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ نےپالتو شیروں کے گھروں پر رکھنے پر صرف 50 روپے جرمانہ اور ایک ماہ قید کی سزا نہ بڑھانے پر پنجاب حکومت سےناراضگی کا اظہار کردیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے 1890 کے قانون میں پالتو شیروں کے گھروں پر رکھنے پر صرف 50 روپے جرمانہ اور ایک ماہ قید ہے،اس قانون میں ترمیم کیوں نہیں کی گئی۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے خاتون گل ناز کی درخواست پر سماعت کی،وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹنٹ آٹارنی جنرل احمد رضا چھٹہ پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت رہائشی علاقوں میں پالتو شیر رکھے جا رہے ہیں،شہریوں نے پالتو جانوروں کو اپنے گھروں میں اور چھتوں پر رکھا ہوا ہے، 1890 کے قانون کے مطابق پالتو جانوروں کو گھروں میں رکھنے پر صرف 50 روپے جرمانہ ہے، پالتو شیروں کو رکھنے کے لیے مخصوص ماحول اور جگہ کا تعین ہونا چاہیے۔
عدالتی استفسار پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن ابھی تک وہ فعال نہیں ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے پنجاب حکومت نے پالتو شیروں کے گھروں پر رکھنے پر جرمانے کی رقم کیوں نہیں بڑھائی اور نہ ہی خطرناک پالتو جانوروں کے متعلق تشکیل دی گئی۔
کمیٹی کو فعال کیا گیا ہے ،پنجاب حکومت کمیٹی فعال کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرے ، عدالت نے وفاقی حکومت سے بھی پالتو شیروں کے گھروں میں رکھنے کے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہورہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت کے متعلق ترمیمی روسٹر جاری