اے این پی کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس، ن لیگ اور پی پی کا مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے اعلامیے پر دستخط نہیں کیے،عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی زیرِ صدارت ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس کا جب اعلامیہ پڑھا جا رہا تھا تو تینوں رہنما اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
آل پارٹیزکانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کی ہرشکل کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ ان مسائل کو ناقص حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان مسائل کے خاتمےکے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری تمام آپریشن فوری بندکیے جائیں۔
اےپی سی نے مطالبہ کیا ہےکہ انسانی ومالی نقصانات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدلیہ کی نگرانی میں ٹروتھ کمیشن بنایا جائے۔ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈز اور غیرقانونی مسلح جتھوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،18ویں آئینی ترمیم پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل کیا جائے۔ این ایف سی ایوارڈ پر آئین کے مطابق مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ معدنیات اور وسائل کے حوالے سے 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹس اور انتقالات کو منسوخ کیا جائے۔ قبائلی عوام کے تاریخی اراضی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ ہمارے نہیں آپ کے مطالبات اور آپ کا مؤقف ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی زیرِ صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، پیکا ایکٹ جیسے قوانین ختم کیے جائیں، مولانا خانزیب کی شہادت پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
ایمل ولی نے سیلابی صورتِحال کے تناظر میں 23 تاریخ کا امن مارچ مؤخر کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کروائی، معلوم نہیں کیوں نہیں آئے: ایمل ولی