سیشلز کے خطرناک پہاڑوں پر پاکستانی کا راج، وقار احمد پھر سے نمبر ون

تحریر :روزینہ علی 

May 16, 2026 | 23:49:PM
سیشلز کے خطرناک پہاڑوں پر پاکستانی کا راج، وقار احمد پھر سے نمبر ون
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کچھ لوگوں کی قسمت انکے ساتھ ساتھ چلتی ہے، یعنی دوڑتے دوڑتے کوئی اپنے خوابوں کو پورا کر لیتا ہے، چترال کے بلند و بالا پہاڑوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی رنر وقار احمد نے بھی ایک بار پھر پاکستان کا نام روشن کر دیا، ایسٹ افریقہ کے خوبصورت مگر خطرناک پہاڑوں سے لدے سیشلز میں ہونے والی نیچر ٹریل رننگ 2026 میں وقار احمد نے نہ صرف شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ اپنا اعزاز بھی کامیابی سے برقرار رکھا.

دنیا کی خطرناک ترین ٹریلز میں شمار ہونے والی اس 22 کلومیٹر طویل ریس میں وقار احمد نے صرف 2 گھنٹے 11 منٹ میں فاصلہ طے کر کے پہلی پوزیشن اپنے نام کی، یہ ٹریل انڈین اوشن کے کنارے اونچے پہاڑوں، خطرناک راستوں، گھنے جنگلات اور دشوار چڑھائیوں پر مشتمل ہے، جہاں دوڑنا صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طاقت کا بھی ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ وقار احمد نے گزشتہ برس 2025 میں بھی اسی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، جس کے بعد سیشلز انتظامیہ نے انہیں خصوصی طور پر رواں برس اپنا ٹائٹل ڈیفنڈ کرنے کے لیے مدعو کیا، ایک پاکستانی ایتھلیٹ کے لیے یہ اعزاز نہ صرف فخر کی بات ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ پاکستانی نوجوان کسی بھی عالمی مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا جادو جگا سکتے ہیں۔

 ریس میں ساؤتھ افریقہ کے ڈینیئل کلاس نے 2 گھنٹے 13 منٹ کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ سیشلز کے مقامی رنر جوناتھن 2 گھنٹے 29 منٹ میں فاصلہ مکمل کر کے تیسرے نمبر پر رہے، مگر تمام نگاہیں پاکستان کے اس سپوت پر مرکوز رہیں جس نے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑ دیا.

وقار احمد کا تعلق چترال سے ہے، ایک ایسا علاقہ جو اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند پہاڑوں اور سخت موسم کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، یہی دشوار ماحول وقار احمد کی کامیابی کی سب سے بڑی طاقت بنا، وقار احمد نے سیشلز روانگی سے قبل 24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ چترال میں انہوں نے خوب جم کر ٹریننگ کی ہے۔

ہائی التیٹیود کی اس ٹریننگ سے انہیں سیشلز کے ٹیکنیکل پوائنٹس میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی تھی اس لیے 2025 میں پہلی پوزیشن لینے کے بعد وہ اس بار بھی خاص پر امید رہے، چترال کی وادیوں میں دوڑنے والا یہ نوجوان آج عالمی سطح پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کر رہا ہے،  تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت اس کھیل کو سپورٹ نہیں کر رہی جبکہ. موجودہ حالات میں رننگ اسپورٹس کو زیادہ سے زیادہ سپورٹ کرنا چاہئے۔

 پاکستان میں کھیلوں کو اکثر وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہیں،  وقار احمد جیسے ایتھلیٹس اپنی محنت، لگن اور جذبے سے ثابت کر رہے ہیں کہ اگر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستانی نوجوان دنیا کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

سیشلز کی خطرناک ٹریل پر یہ فتح صرف ایک ریس جیتنے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ حوصلے، عزم اور پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے، وقار احمد نے ثابت کر دیا کہ خواب اگر بڑے ہوں تو دنیا کی کوئی چوٹی، کوئی پہاڑ اور کوئی خطرناک راستہ منزل بننے سے نہیں روک سکتا۔