پنجاب میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورزام اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

Jun 16, 2026 | 18:58:PM
پنجاب میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوورزام اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ثمرا فاطمہ )پنجاب حکومت نے صوبے میں پہلی بار سیاحت کے شعبے کو منظم اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹورازم اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ٹورازم انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق چکوال، راجن پور، قصور اور مری کے سیاحتی مقامات کی اپ گریڈیشن پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ چھانگا مانگا اور چشمہ میں سیاحتی ترقیاتی منصوبے 8 ارب 71 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران سیاحتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 5 ارب 55 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

حکومت نے ایکو ٹورازم کے فروغ کے لیے چھانگا مانگا، اُچھالی اور چشمہ میں بڑے منصوبے شروع کر رکھے ہیں، جن کے لیے آئندہ مالی سال میں ایک ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مری میں بنسرا گلی زولوجیکل گارڈن 3 ارب 92 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 60 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سفاری زو لاہور کے ماسٹر پلان پر 7 ارب روپے کی لاگت سے عمل درآمد جاری ہے۔

بجٹ میں ٹیکسلا ہیرٹیج سائٹ کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ لاہور ہیرٹیج پراجیکٹ 31 ارب روپے کی لاگت سے شروع کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ لاہور میوزیم کے نئے بلاک کی تعمیر پر 8 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ والڈ سٹی آف راولپنڈی منصوبے کے لیے 5 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سی ایم لاہور ہیرٹیج ریوائیول پروگرام فیز ٹو بھی 12 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت سیاحت کے شعبے میں مجموعی طور پر 471 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس میں 171 ارب روپے سرکاری اور 300 ارب روپے نجی شعبے سے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

حکومت نے پنجاب میں "ڈیسٹینیشن اکانومی انیشی ایٹو" متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 171 ارب روپے کی لاگت سے صوبے بھر میں 8 سیاحتی سرکٹس قائم کیے جائیں گے۔ ان میں لاہور، مذہبی سیاحت، پوٹھوہار، سالٹ رینج، چولستان اور جنوبی پنجاب کے سیاحتی سرکٹس شامل ہوں گے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق نارتھ پوٹھوہار ایکو ٹورازم منصوبہ 42 ارب روپے جبکہ ریلیجس ٹریل پنجاب منصوبہ 20 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا۔

حکومت کو توقع ہے کہ ان منصوبوں سے سالانہ 450 ارب روپے تک معاشی سرگرمی پیدا ہوگی، پنجاب میں سیاحوں کی تعداد 18 سے 30 ملین تک پہنچے گی اور سیاحت کے شعبے میں 300 ارب روپے تک نجی سرمایہ کاری متحرک ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں :آئندہ مالی سال میں چیف منسٹرز سپیشل انیشیٹوز کیلئے فنڈز مختص نہ کئے گئے