دہشتگردوں کی بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام، 14 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے کرنل، میجر زخمی

Jan 16, 2026 | 20:59:PM
 دہشتگردوں کی بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام، 14 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے کرنل، میجر زخمی
کیپشن: وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کوئٹہ میں پریس کانفرنس مین خاران میں دہشتگردوں کی بینک لوٹنے کی کوشش ناکام بنانے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) بلوچ دہشتگرد اب بینک ڈکیت بھی بن گئے، بیک وقت کئی بینک لوٹنے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز کی مدد سے  ناکام بنایاگیا۔ 14 دہشتگرد مارے گئے اور سکیورٹی فورسز کے ایک کرنل اور ایک میجر دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ  خاران میں 15 سے 20 افراد نے مختلف راستوں سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان لوگوں کا منصوبہ بینکوں میں لوٹ مار  کرنے کا تھا۔ عام بلوچوں کے پیسے جو بینک میں تھے، انہیں لوٹنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ خاران میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت مدد ملنے سے بینکوں کو لوٹنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

کبلوچستان کےوزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس واقعہ کی پبلک کو اطلاع کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرت کے پہنچائی۔ انہوں نے بتایا کہ "بلوچ قوم" کا جھوٹا نعرہ لگانے والے اب بینک ڈکیت بن چکے ہیں۔ یہ دہشت گرد بینک ڈکیتیاں کر رہے ہیں. ہم بینکوں کی سکیورٹی کیلئےسٹیٹ بینک سے مل کر لائحہ عمل بنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ کچھ دہشت گرد نیشنل بینک کے کیش کاؤنٹر سے 35 لاکھ روپے لوٹ کر لے گئے۔ خاران میں بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا۔

سرفراز بگٹی کے مطابق بینکوں میں گھس کر  لوٹ مار  کرنے کی عرض سے آئے 14 دہشت گرد مارے گئے۔  جن میں 12 کی ہلاکتیں کنفرم ہیں۔ دو مقامات پر 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہی مارا گیا جبکہ  مقامی لوگوں کی مدد سے مزید 8 دہشت گردوں کو مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے: مرنے کے بعد اپنے اعضا ضرورتمندوں کو عطیہ کرنیوالے شہریوں پر  حکومت نے اعزازات کی بارش کر دی

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ہمارے ایک کرنل ودان اور میجر عاصم آپریشن میں زخمی ہوئے.خاران میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے .گزشتہ سال 9 سو دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،ہتھیار ڈالنے کے لیے ریاست کے دروازے کھولے ہیں.بولان قومی شاہراہ ترقیاتی کام کے سلسلے میں رات کے وقت بند کرتے ہیں،

3 ارب روپے سے بلوچستان کے تمام سرکاری سکول، کالجز، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں فائبر انٹرنیٹ فراہم کریں گے،بلوچستان میں آن لائن ٹیسٹ سسٹم متعارف کروا رہے ہیں،

یہ بھی پڑھیئے:  امیگرنٹس کےساتھ امریکی فیڈرل ایجنٹس کی بےرحمی کی ایک اور کہانی سامنےآگئی

خاران میں دہشتگرد ڈکیتوں کے قلع قمع کے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان

15 جنوری 2026 کو فتنہ ال ہندستان کے تقریباً 15 سے 20 ہندوستانی سپانسر شدہ دہشت گردوں نے خاران شہر، ضلع خاران میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔  اس دوران میں دہشت گردوں نے سٹی پولیس سٹیشن، نیشنل بینک آف پاکستان اور حبیب بینک لمیٹڈ پر حملہ کیا۔اپنی  کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے بینکوں سے 3.4 ملین (34 لاکھ)روپے لوٹ لیے۔

سیکورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ آنے والے کلیئرنس آپریشن کے دوران تین مختلف  انکاؤنترز میں بارہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ پولیس سٹیشن میں یرغمال بنانے  کی صورتحال پیدا کرنے کے دہشت گردوں کے عزائم کو بھی ناکام بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہخران شہر میں کسی بھی دوسرے ہندوستانی سپانسرڈ  دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے گردونواح میں صفائی کا آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وژن "عظیم استقامت" (جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی سپریم کمیٹی نے منظور کیا ہے) کے تحت انسداد دہشت گردی کی ایک انتھک مہم ملک سے غیر ملکی اسپانسر شدہ اور سپورٹ شدہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے پوری رفتار سے جاری رہے گی۔