امیگرنٹس کےساتھ امریکی فیڈرل ایجنٹس کی بےرحمی کی ایک اور کہانی سامنےآگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ کی منی سوٹا سٹیٹ کے شہر منیاپولس میں منگل کے روز فیڈرل ایجنٹس نے جس خاتون کو گاڑی سے کھینچ کر گھسیٹا، اس کا نام عالیہ رحمان ہے۔ اس خاتون نے بتایا کہ انہوں نے فیڈرل ایجنٹوں کو اپنی معذوری کا بتایا تھا، اس کے بعد بھی ایک فیڈرل ایجنٹ نے مجھے جانور کی طرح گاڑی سے کھینچ کر نکالا۔
عالیہ رحمان نے امریکی نیوز آؤٹ لیٹ اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ زندہ بچ گئیں۔
عالیہ رحمان نے کہا کہ وہ اپنے علاج کے لیے ٹرامیٹک برین انجری سینٹر جا رہی تھیں، نقاب پوش ایجنٹس نے یہ بتانے کے باوجود کہ وہ ڈس ایبل ہیں، انہیں جانور کی طرح گاڑی سے کھینچ کر نکالا۔
یہ واقعہ اس جگہ سے دو بلاک دورہی پر پیش آیا، جہاں فیڈرل ایجنٹس نے 37 سالہ رینی نکول گُڈ کو قتل کیا تھا۔
عالیہ رحمان نے کہا کہ رینی گڈ کے قتل کے تناظر میں انہیں اندازہ تھا، کہ انہیں مزاحمت نہیں کرنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مالی سال کے پہلے پانچ ماہ: معیشت کو پر لگ گئے، معاشی سرگرمی میں اضافہ
فیڈرل ایجنٹس کی حراست کے دوران انہوں نے ڈاکٹرسے معائنہ کروانے کی درخواست کی لیکن انہیں حراستی مرکز پہنچا دیا گیا۔ جہاں وہ بے ہوش ہوگئیں۔ بے ہوش ہونے پر انہیں اسپتال پہنچایا گیا۔
گزشتہ دنوں منی سوٹا میں امیگریشن حکام نے سڑک پر ایک امیگرنٹ خاتون کو گولی مار دی تھی، اس واقعہ پر امریکہ میں سخت احتجاج ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 جنوری کو سڑک پر فیدرل ایجنٹس کی فائرنگ سے ماری گئی خاتون رینی گڈ کے سینے، بازو اور سر میں گولیاں تین لگیں۔
37 سالہ رینی نکول گُڈ پر منیاپولس میں ہونے والی جان لیوا فائرنگ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور اس کے سبب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) کو مزید سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھہئے: کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے پروازوں کی آمدورفت کا آغاز ہو گیا