سینیٹ ؛خارجہ امور کمیٹی اجلاس میں دنیش کمار اور انوشہ رحمان میں سخت جملوں کا تبادلہ  

Sep 14, 2026 | 19:09:PM
سینیٹ ؛خارجہ امور کمیٹی اجلاس میں دنیش کمار اور انوشہ رحمان میں سخت جملوں کا تبادلہ  
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بلال خان نیازی)سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی اجلاس میں سینٹر دنیش کمار اور انوشہ رحمان میں سخت جملوں کا تبادلہ  ہو گیا۔ سینٹر دنیش کمارنے کہاکہ بتایا جائے آپ کے کتنے بندے ایڈجسٹ ہوئے ۔

تفصیلات کے مطابق سینٹر آغا شاہزیب درانی کی زیر صدارت سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کا اجلاس  ہوا،پاکستان ہائی کمیشن جنوبی افریقہ نے کمیٹی کو بریفنگ  دی،سید جلال زیدی نے کہاکہ بہت زیادہ پاکستانی غیر قانونی ہیں ،جنوبی افریقہ میں پاکستانی کیمونٹی کاروباری رقابت میں ایک دوسرے قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،ایک دوسرے کی سپاری دی جاتی ہے،ملکوال اور منڈی بہاؤ الدین سے زیادہ پاکستانی ہیں ،ایک دوسرے کے قتل کی سپاری پاکستان سے دی جاتی ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیاکہ کون لوگ ہیں ، ہائی کمیشن جنوبی افریقہ نے کہاکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے شہریت لے لی ہے ،جنوبی افریقہ کی پولیس بھی اس طرح تحقیقات نہیں کرتی ،بہت سارے پاکستانی کاروبار بھی کرتے ہیں ،جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستانیوں کی بدنامی ہو رہی ہے،

ایتھوپیا،صومالیہ ، بنگلہ دیش کو بھی پاکستانی تصور کی جاتا  ہے۔

پاکستان ہائی کمیشن نے کہاکہ یہاں کچھ سختی ہوئی ہے جس سے مشکلات میں اضافہ ہوا ،مافیا منظم انداز میں کام کرتا ہے ،قانونی طور پر جانے والوں کو مشکل ہوئی مگر غیر قانونی رکتے نہیں۔

سینٹر دنیش کمارنے کہاکہ ایف آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں،سپاری والا معاملہ تو انڈیا سے شروع ہوا یہاں کیسے شروع ہوا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایف آئی اے کی کارکردگی کو دیکھنا ہوگا ،وزیر داخلہ یہاں خود چیک کرنے پہنچ جاتے پھر یہ کیوں ہو رہا ۔

ہائی کمیشن جنوبی افریقہ نے کہاکہ پولیس کی کرپشن کا لیول ہی کوئی نہیں ،سینیٹردینش کمار نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں ملوث افراد کا ڈیٹا کہاں ہے۔

خارجہ امور کمیٹی نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں جو احتجاج ہوا وہ پاکستانیوں کے خلاف نہیں تھا،ہائی کمیشن نے کہاکہ غیر قانونی جانے والوں کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں،یہاں بڑے بڑے گینگز ہیں پاکستانیوں کے گینگ بھی ہیں،جنوبی افریقہ والے بڑے جرائم بھی ہمارے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سیکرٹری خارجہ  نے کہاکہ کیوں کہا جاتا کہ نئے جرائم آپ سکھاتے ہیں ،نادرا سے ریکارڈ چیک کروایا جاتا ہے،مکمل تفضیل میسر ہونے کے بعد کونسل ایکسس دی جاتی ہے،پھر انہیں اپنے فنڈز سے واپس پاکستان بھجواتے ہیں،جب تک ثابت نہ ہوسکے کہ یہ پاکستانی ہے ہم مدد نہیں کرسکتے ۔

سینیٹر دنیش کمارنے کہاکہ وزارت خارجہ میں  بلوچستان سے ایک فی صد کوٹہ دیا گیا ،بلوچستان سے خواتین کو نظر انداز کیا گیا ،بلوچستان سے اقلیتوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ،وفاق اور پنجاب کو نوازا کیا ہے ،بلوچستان کا چھ فیصد کوٹہ ہضم کیا گیا ہے ۔

کمیٹی نے وزارت خارجہ سے بلوچستان کا چھ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کی تفصیلات طلب کر لیں ،وزارت خارجہ حکام نے کہاکہ ڈیپو ٹیشن پر وزارت خارجہ میں لیتے وقت کوٹہ سامنے نہیں رکھتے۔ 

وفاق کا وزارت خارجہ میں ملازمتوں کا کوٹہ نہیں ہے،خارجہ امور کمیٹی اجلاس میں سینٹر دنیش کمار اور انوشہ رحمان میں سخت جملوں کا تبادلہ  ہو گیا۔ سینٹر دنیش کمارنے کہاکہ بتایا جائے آپ کے کتنے بندے ایڈجسٹ ہوئے ،میں بات کر رہا ہوں یہ مداخلت کرتی ہیں ۔

سینٹر دینش کمار بلوچستان سے کوٹے پر نوکریوں سے متعلق سوالات کررہے تھے ،سینیٹر دینش کمار نے کہاکہ میں بات کررہا ہوں چیئرمین اگر بولیں تو میں چپ ہونگا، گزشتہ روز بھی انوشے رحمان نے کمیٹی کے باہر مجھے بولا کہ آپ زیادہ کررہے ہیں ۔

سینٹر انوشہ رحمان نے کہاکہ سینٹر دینش کمار کو اتنا غصہ کس بات کا ہے، سینیٹر دینش کمار نے کہاکہ یہاں صرف نوکریاں پنجاب کو دی جارہی ہے، اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں میں ، وہ حساب ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:یورو77پیسے، برطانوی پاؤنڈ47پیسے سستا ،ڈالر کی قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟جانیے

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: