گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں دوسرے کُل پاکستان دو روزہ ادبی میلہ کا انعقاد،متعدد تقریبات کا اہتمام

Nov 15, 2025 | 21:00:PM
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں دوسرے کُل پاکستان دو روزہ ادبی میلہ کا انعقاد،متعدد تقریبات کا اہتمام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) روایتوں کی امین تاریخی درسگاہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی روایت ساز مجلسِ اقبال کے زیرِ اہتمام دوسرا کُل پاکستان دو روزہ ادبی میلہ(بیادِ ناصر کاظمی)   منعقد ہوا۔ ملک بھر کی مختلف جامعات سے ستائیس ادبی اصناف میں 300سے زائد تخلیقات موصول ہوئیں۔ اس میلے میں بیت‌بازی، علمی و ادبی نشستیں، اہل قلم کے ساتھ مکالماتی سلسلے، چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو سیشن، مختلف اصنافِ ادب پر ورکشاپس، دستاویزی فلم، پنجابی ناٹک، شام غزل اور سالانہ مشاعرہ شامل تھے۔

پہلے روز بخاری آڈیٹوریم میں صبح آٹھ سے دو بجے تک شاعری اور بیت‌بازی سمیت مختلف مقابلہ جات  کا انعقاد ہوا، جس میں صدر مجلسِ اقبال محمد اویس نے صدارتی نشست سنبھالتے ہوئے جنرل سیکرٹری محسن علی نقوی کے ساتھ میزبانی  کے فرائض سرانجام دیے۔ بعد ازاں دوپہر  تین بجے تک صحافت سے وابستہ معروف شخصیت محترمہ مہ پارہ صفدر کے ساتھ ’’یَہ مسائلِ تلفّظ 2.0‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی نشست کا انعقاد ہوا۔ میزبانی کے فرائض ماورا ستارہ نے بطریقِ احسن سرانجام دیے اور نشست میں ان کی صحافتی زندگی کے ساتھ ساتھ تلفظ کی باریکیوں اور مسائل پر ایک سیر حاصل گفتگو کی۔
پہلے روز کے اختتام پر شامِ غزل کا اہتمام کیا گیا جس میں اریز مرتضیٰ، کاظم رضا رضوی، محسن اسلم اور بلال قریشی کی مسحور کن آواز نے محفل میں سماں باندھ دیا اور حاضرین دیر تک مسحور رہے۔ شام غزل میں استاد غلام عباس اور اُن کے صاحبزادے کی خصوصی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ پہلے روز کا اختتام شام چھ بجے تقریبِ تقسیمِ انعامات کے ساتھ ہوا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سب سے زیادہ پوزیشنز کے ساتھ ٹیم ٹرافی کی حقدار قرار پائی۔ میلے کے پہلے روز مختلف مقامات پر مندرجہ ذیل تربیتی نشستیں بھی جاری رہیں:
اتاقِ ایران‌شناسی(مین بلڈنگ) میں صبح دس سے گیارہ بجے تک حذیفہ یوسف کے ساتھ اردو شاعری پر ایک نشست منعقد ہوئی۔ 
فضلِ حسین ریڈنگ روم میں رانا جاذب علی نے ’’Poetry in Perception and Performance‘‘ کے عنوان سے دوپہر بارہ سے ایک بجے تک ایک سیشن کی میزبانی کی جس کے بعد دو بجے اسی مقام پر اوپن مائیک کا اہتمام کیا گیا۔ 
دن تین سے چار بجے تک اتاقِ ایران شناسی میں سابق مدیرِ راوی الین راجہ نے افسانہ نویسی کے فن پر طلبا کی رہنمائی کی۔ 

دوسرے روز بھی بخاری آڈیٹوریم میں  آغاز سے اختتام تک خوب رونق رہی، جہاں صبح نو سے دس بجے تک ’’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک پُرمغز پینل ٹاک کا انعقاد ہوا۔ جس میں جی سی یونیورسٹی لاہور سے مختلف اصناف میں بہترین لکھاری طلباء، حذیفہ یوسف، فاروق پاشا، انس رحمان اور عائشہ مشرف نے احسان جنجوعہ سے مکالمہ کیا، اور اپنے شعری سفر اور کلاسیکی اور عصری شاعری پر عمیق گفتگو کی، جبکہ اُسوہ مریم نے بیرونی نکتہ نظر پیش کیا۔
گیارہ سے بارہ بجے تک مقابلہِ بیت‌بازی کے فائنل مرحلے کا انعقاد ہوا، جس میں ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے میدان مار لیا اور ایم اے او کالج کی ٹیم دوسری جبکہ جامعہ زرعی فیصل آباد تیسری پوزیشن کی حقدار قرار پائی۔
مقابلہِ بیت بازی کے  بعد تھیٹر ریپبلک نے فاروق پاشا کی رہنمائی میں اپنے شہرۂ آفاق ڈرامے ’’Waiting for Godot‘‘ کا پنجابی روپ ’’اُڈیک‘‘ پیش کیا اور یہ سلسلہ گیارہ سے ایک بجے تک جاری رہا۔
بعد ازاں ایک سے دو بجے تک ناصر کاظمی مذاکرہ بعنوان ’’آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی، سب مزہ رفتگاں نے چھین لیا‘‘ منعقد ہوا۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر صائمہ ارم نے کی، جبکہ شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، ڈاکٹر ساجد علی اور احسان جنجوعہ شامل تھے۔ تمام شرکا نے ناصر کاظمی اور ان کی اداسی کی تہذیب پر معنویت سے بھرپور مکالمہ کیا۔
دو سے تین بجے تک اکتیسواں چہرہ بہ چہرہ روبرو پروگرام منعقد ہوا، جس میں معروف شاعر و ڈرامہ نگار سرمد صہبائی نے فاروق پاشا اور علی رشید کے ساتھ اپنے شعری اور نثری سفر کے حوالے سے ایک بہترین مکالمہ کیا۔
دو روزہ ادبی میلہ سالانہ مشاعرے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس کی صدارت جناب  ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی اور حذیفہ یوسف نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ 
شعرا میں سرمد صہبائی، ڈاکٹر سعادت سعید، یاسمین حمید، سعود عثمانی، واجد امیر، شاہین عباس، حماد نیازی، فہد محمود سوختہ، علی قائم نقوی،کفیل رانا، ذوہیب عالم اور فیاض بوستان شامل تھے۔ مشاعرے کے آغاز  سے اختتام تک بخاری آڈیٹوریم میں باذوق سامعین کی داد و تحسین سے ایک شاندار سما بندھا رہا۔

دوسرے روز بھی اتاقِ ایران‌ شناسی اور آذربائجان سینٹر میں مختلف تربیتی نشستوں کا سلسلہ جاری رہا:
صبح دس سے گیارہ بجے تک اُسوہ مریم نے تربیتی نشست  ’’You, Yourself, and the Other‘‘ کی میزبانی کی۔ گیارہ سے بارہ بجے تک سارہ طاہر بخاری کے ساتھ انتظار حسین کے افسانے ’’Monkey’s Tale‘‘ پر ریڈنگ سرکل کا انعقاد ہوا۔ 
بارہ سے ایک بجے تک بیت‌ بازی اور تحت اللفظ پر ایک تربیتی نشست کا انعقاد ہوا جس میں جی سی یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ساتھ مقابلہِ  بیت بازی کے حتمی مرحلے کی تینوں ٹیمز نے شرکت کی جبکہ جناب عطّاس احمد، احسان جنجوعہ اور سیف الرحمان جعفر نے طلبا کی رہنمائی کی۔ 
ایک سے دو بجے تک احمد تاجی نے ’’Re-Introduction to Theatre‘‘ پر ایک سیشن کی میزبانی کی۔ 
جبکہ دو سے تین بجے تک جناب عامر فراز نے اتاقِ ایران شناسی میں تربیتی نشست بعنوان “مجلسّی تنقید: روایت، مشاہدات اور امکانات” کا انعقاد کیا۔ 
اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے نگران مجلسِ اقبال، ڈاکٹر سفیر حیدر نے مختلف جامعات سے تشریف لانے والے شرکاء مقابلہ، مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن کی شرکت کو اس ادبی میلے کی کامیابی قرار دیا اور احمد مشتاق کے اس شعر کے ساتھ کل پاکستان دو روزہ ادبی میلے کا اختتام کیا

ہوئی فصلِ گُل تو کھلیں گے ہم ، رہی زندگی تو ملیں گے ہم
کسی اور دھیان کے روبرو، کسی اور خواب کے درمیاں

یہ بھی پڑھیں:گندے کاموں پر فخر کرنیوالی خاتون  کی ویڈیو وائرل ،سخت تنقید