تحریک تحفظ آئین پاکستان کا خیبر پختونخواہ امن جرگہ کے اعلامیہ کی مکمل حمایت کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں خیبر پختونخواہ امن جرگہ کے اعلامیہ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ۔پیر کے روز ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کا پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک ہوگا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ترامیم کے خلاف قرارداد پیش کی جائے گی، ارکان پنجاب اسمبلی پیر کے روز پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کریں گے، لاہور میں وکلاء احتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے گی، اگلے جمعہ ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا،اجلاس میں بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی قیادت کی فی الفور رہائی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت و کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ہنگامی اجلاس کی صدارت محمود خان اچکزئی نے کی،اجلاس میں اسد قیصر، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر خان و دیگر شریک ہوئے،اجلاس میں ستائیسویں اور چھبیسویں آئینی ترامیم کو بنیادی ڈھانچے کے خلاف قرار دیا گیا، ترامیم کو عدلیہ اور جمہوری ستونوں پر وار کہا گیا،ترامیم نے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا ہے،اجلاس میں آئین کو اصل حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا
متنازعہ ترامیم نے سپریم کورٹ کے اختیار و وجود کو محدود کر دیا ہے، اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے کو مزاحمت قرار دیا گیا، اجلاس میں آئین کے پاسدار ججز کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، غیر آئینی ترامیم کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ، یہ بھی کہا گیا کہ آئین کو اصل حالت میں بحال کروانے کے لیے بھرپور احتجاج کیا جائے گا ۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کی فلم انڈسٹری: زوال سے احیاء تک—56 ایکڑ پر فلم سٹی اور 2 ارب کا فلم فنڈ