نائٹ رائیڈر کی قانون پسند پولیس کار قانون شکن بن گئی؟ ٹریفک رولز کی وائلیشن پر جرمانہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ میں مشہور ٹی وی سیریز نائٹ رائیڈر کی غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک کار کو سڑک پر ٹریفک قوانین کی وائلیشن کرنے پر جرمانہ ہو گیا۔ لیکن بعد میں اس سے بھی زیادہ دلچسپ انکشافات ہوئے جنہوں نے عوام کو حیران اور حکام کو پریشان کر دیا ہے۔
امریکہ عوام میں مقبول دیومالائی پولیس کار کو ٹریفک جرمانہ ہو جانا تو صدمے سے دوچار کرنے اور حیران کرنے والی بات ہے ہی، لیکن امریکی عوام اس بات پر زیادہ حیران ہیں کہ ان کی محبوب کار تو کئی سال سے شکاگو کے مشہور وولو میوزیم میں کھڑی ہے۔ اس کو نیویارک کی ٹریفک پولیس نے ٹریفک رولز کی وائلیشن کرنے پر جرمانہ کر کیسے دیا۔ عوام تو اس بات پر صرف حیران ہیں، ٹریفک پولیس کے حکام کے لئے پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ جب نائٹ رائیڈر سیریز کی کار کی ریپلیکا کار تو میویزم میں بدستور کھڑی ہے، تو اس کار کو سڑک پر ٹریفک رولز کی وائلیشن پر جرمانہ کیسے ہوا، حکام اس سوال میں الجھے ہوئے ہیں کہ نائٹ رائیڈر والی کار جیسی کار کس کے پاس ہے۔
میوزیم میں کھڑی گاڑی کو برسوں سے کوئی حرکت کیے بغیر ہی ٹریفک جرمانے کا ٹکٹ موصول ہوا تو میوزیم کے حکام حیران ہوئے۔ کیونکہ یہ تو طے تھا کہ تاریخی اہمیت کی حامل ونٹیج کار ایک لمحے کے لئے بھی اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوئی تھی۔ میوزیم میں جدید کیمرے بھی مونیٹرنگ کر رہے ہیں۔
اس اسرار نے میوزیم کے منتظمین اور عوام کے ذہنوں کو تو گھمایا ہی لیکن بعد میں ٹریفک رولز کی وائلیشن پر جرمانہ کرنے والے ٹریفک حکام زیادہ الجھ گئے۔ کیونکہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ جس کار کو وائلیشن میں ملوث پایا گیا وہ وہی ہے جو میوزیم مین کھڑی ہے۔ پریشانی یہ ہے کہ جب وہ کار میویزم سے باہر آئی ہی نہیں تو وائلیشن میں ملوث کار کس کی ہے۔ نکیونکہ اب یہ تو طے ہے کہ نائٹ رائیدر والی کار کی ایک کاپی میوزیم سے باہر موجود ہے اور وہ کار سڑکوں پر ٹریفک رولز کو روندتی ہے۔ یعنی جس کے پاس وہ کار ہے وہ رولز کی کوئی پرواہ نہین کرتا۔
اب نیویارک ٹریفک پولیس کے حکام پریشان ہیں کہ وہ کون فرد تھا جس نے نیویارک میں نائٹ رائیڈر والی کار جیسی سیاہ رنگ کی گاڑی کو چلاتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی اور پھر جرمانہ نہیں بھرا۔
1980 کی دہائی کی مشہور ٹی وی سیریز نائٹ رائیڈر کی نقل بنا لینا کوئی غیر قانونی کام نہیں لیکن اس مشہور کار مینبیتھ کر ٹریفک رولز کو توڑنا بہرحال غیر قانونی ہی نہیں غیر اخلاقی بھی ہے، کیونکہ اس کار کے ساتھ اب بھی لاکھوں لوگوں کی جذباتی وابستگی ہے اور وہ قانون کا نٖاذ کرنے اور مجرموں کو پکڑنے کے لئے مشہور اس کار سے کسی غیر قانونی حرکت کو منسوب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
شکاگو کے قریب واقع وولو میوزیم کی انتظامیہ کو بھی عجیب مشکل کا سامنا ہے، جہاں نائٹ رائیڈر کی نقل کھڑی ہے۔ ان کی گاڑی کی لائسنس پلیٹ والی گاڑی پر نیویارک میں قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس جرمانے سے تو میوزیم کے منتظم نمٹ ہی لیں گے لیکن ان کے لئے اہم سوال ساکھ سے متعلق ہے۔
میوزیم میں کھڑی گاڑی برسوں سے اپنی جگہ سے ہلی نہیں مگر حال ہی میں اسے 50 ڈالرز جرمانے کا ٹریفک ٹکٹ موصول ہوا۔
نیویارک مین سڑک پر جرمانہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس گاڑی یا بالکل اسی جیسی کار نے 22 اپریل کو ایک سڑک پر حد سے زیادہ تیزرفتار ڈرائیونگ کی تھی۔
جرمانہ کے ٹکٹ کے ساتھ ٹریفک کیمرے کی بنائی ہوئی تصویر بھی ہے جس میں سیاہ رنگ کی گاڑی کو دکھایا گیا ہے اور یہ بالکل ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی کار میوزیم میں کھڑی ہے۔
نائٹ رائیڈر والی کار کی لائسنس پلیٹ والی گاڑی نے 2024 کے آخر میں بھی ٹریفک قوانین کی 5 بار خلاف ورزیاں کی تھیں۔
اب پیچیدگی یہ ہے کہ میوزیم میں کھڑی گاڑی کا لائسنس نمبر نیویارک شہر کی کسی گاڑی کو کیسے مل گیا۔
میوزیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک پاپولر ٹی وی سیریز کے سبب مشہور گاڑی کی نقل کے باعث ہمیں جن قانونی مشکلات کا سامنا ہے وہ کافی دلچسپ ہیں، ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ شکاگو میں کھڑی گاڑی کیسے نیویارک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعی حیران کن ہے اور ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نائٹ رائیڈر چلانے والا فرد کون ہے، ہم بس یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی کسی فرد نے اس گاڑی کو مشغلے کے طور پر تیار کیا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعی بہترین نقل ہے۔
نائٹ رائیڈر ٹی وی سیریز کی کار دراصل فیوچرسٹک خودمختارکارتھی
1980 میں نائٹ رائیڈرز ٹی وی سیریز کے رائٹر نے مرکزی کردار ایک کار کو دیا تھا، یہ کار ایک فیوچرسٹک کار تھی جو اس وقت کے امریکہ اور باقی دنیا مین حقیقت میں کہیں موجود نہین تھی۔ یہ خود مختار کار سوچ بھی سکتی تھی اور غیر معمولی ذہانت کی مدد سے اہم فیصلے بھی کر سکتی تھی جن سے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لانے میں مدد ملتی تھی۔
ٹی وی سیریز "نائٹ رائیڈر" (Knight Rider) میں دکھائی جانے والی کار کا نام KITT (کِٹ) تھا، جو دراصل "Knight Industries Two Thousand" کا مخفف تھی۔ یہ 1982 ماڈل کی مابعد جدید (customized) پونٹیاک فائر برڈ ٹرانس ایم (Pontiac Firebird Trans Am) کار تھی، جو اپنی حیرت انگیز خصوصیات کی وجہ سے اس دور میں بچوں اور بڑوں دونوں کی پسندیدہ ترین کار بن گئی تھی۔
اس کار کی چند اہم ترین اور خاص خوبیاں یہ تھیں:
مصنوعی ذہانت اور خود مختاری (Artificial Intelligence - AI)
خود کار ڈرائیونگ (Self-Driving): یہ کار بغیر ڈرائیور کے خود چلنے، پارک ہونے اور اپنے مالک (مائیکل نائٹ) کو کسی بھی جگہ سے پک کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
بات چیت اور جذبات: کِٹ محض ایک مشین نہیں تھی بلکہ اس کے پاس انسانی دماغ کی طرح سوچنے اور بولنے کی صلاحیت تھی۔ وہ مائیکل کے ساتھ طنز و مزاح، مشورے اور جذبات کا تبادلہ کرتی تھی۔
کمال کی مضبوطی اور رفتار
ناقابلِ تسخیر باڈی (Molecular Bonded Shell): کار پر ایک خاص کیمیائی تہہ چڑھی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس پر گولیوں، بم دھماکوں اور آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ دیواروں کو توڑ کر بھی بغیر کسی نقصان کے گزر جاتی تھی۔
ٹربو بوسٹ (Turbo Boost): ایک بٹن دبانے سے کار کی رفتار انتہائی تیز ہو جاتی تھی اور وہ کسی بھی رکاوٹ، کھائی یا دوسری گاڑیوں کے اوپر سے ہوا میں اڑتے ہوئے (Jump) گزر سکتی تھی۔
سپر پرسیوٹ موڈ (Super Pursuit Mode): بعد کے سیزنز میں کار میں یہ موڈ شامل کیا گیا، جس سے اس کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیاں (جیسے ونگز کھلنا) ہوتیں اور اس کی رفتار 300 میل فی گھنٹہ سے بھی تجاوز کر جاتی۔
ہائی ٹیک نگرانی اور سکیننگ (Scanning)
انفراریڈ اسکینر (Anamorphic Equalizer): کار کے اگلے حصے پر ایک سرخ رنگ کی لائٹ دائیں بائیں گھومتی رہتی تھی، جو اس کا اسکینر تھی۔ یہ اندھیرے میں دیکھنے، دیواروں کے آر پار دیکھنے اور بارود یا چھپے ہوئے انسانوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
میڈیکل اسکینر: کِٹ اپنے مالک مائیکل کی صحت، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر پر نظر رکھتی تھی اور زخمی ہونے کی صورت میں فوری الرٹ کرتی تھی۔
جدید کنٹرول اور مواصلات
سمارٹ واچ کنٹرول (Comlink): مائیکل نائٹ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کے ذریعے کِٹ سے میلوں دور رہ کر بھی بات کر سکتا تھا اور اسے اپنے پاس بلا سکتا تھا (موجودہ دور کی سمارٹ واچ کا تصور اس ٹی وی سیریز نے 80 کی دہائی میں ہی دے دیا تھا)۔
اندرونی کاک پٹ (Cockpit): کار کا اندرونی حصہ کسی عام گاڑی جیسا نہیں بلکہ ایک جدید ہوائی جہاز یا خلائی جہاز جیسا بنایا گیاتھا، جس میں لاتعداد رنگ برنگی سکرینیں، گرافکس اور بٹن موجود تھے۔ اس سب سے یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ کار انتہائی جدید اور پیچیدہ نظام کی مالک ہے۔ تب تو یہ سب کچھ محض تخیل تھا، لیکن اب ایسی کاریں واقعی موجود ہیں۔

نائٹ رائیدر کی اس کار کو جدید آٹو میٹک، سیلف ڈریون کاروں کی ماں کہا جا سکتا ہے۔ وہ کار حقیقت مین موجود نہین تھی لیکن اس کی ساری خوبیاں بعد میں حقیقت میں کاروں میں ڈالی گئیں۔ جی پی ایس کی مدد سے اپنا راستہ خود تلاش کرنا ان خوبیوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، نیوکلئیر مواد کی نقل و حرکت ہوئی تو ایران پر بمباری ہو گی، ٹرمپ کی دھمکی