ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، نیوکلئیر مواد کی نقل و حرکت ہوئی تو ایران پر بمباری ہو گی، ٹرمپ کی دھمکی

May 15, 2026 | 17:15:PM
ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، نیوکلئیر مواد کی نقل و حرکت ہوئی تو ایران پر بمباری ہو گی، ٹرمپ کی دھمکی
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ کے    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔  اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بحران کے حوالے سے ایسے کئی مسائل حل کر لیے گئے ہیں جنہیں دوسرے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعے کے روز واضح کیا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایرانی معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور وہ دونوں نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں اور وہ "آبنائے ہرمز" کو کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بیجنگ میں ان کے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس کے دوسرے اور آخری دن سامنے آئی۔

 ٹرمپ نے یہ بھی باور کرایا کیا کہ ایران کی جنگ سے متعلق صورت حال کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر ان کی چین کے صدر کے ساتھ  بہت زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا "ہم اس صورت حال کو ختم کرنے کے حوالے سے بڑی قربت محسوس کر رہے ہیں"۔

چین کے دورے کے بارے میں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ یہ شان دار رہا اور وہ چینی صدر کا بہت احترام کرتے ہیں۔

اس سے پہلے  صدر ٹرمپ نے  "فاکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ فاکس کے ساتھ انترویو میں ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانیوں کو معاہدہ کرنا ہی ہو گا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وہ اس معاملے پر چین کے ساتھ متفق ہیں۔

ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات کے اندر نقل و حرکت کی کوئی بھی کوشش دیکھی گئی تو وہ ایران پر دوبارہ براہِ راست فوجی حملے کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن کسی بھی صورت میں تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کی ملکیت کی اجازت نہیں دے گا۔

فاکس نیوز کے نمائندہ کے ساتھ  انٹرویو  میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی سابق فوجی کارروائیاں، جن میں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل تھا، تہران کی ہتھیار بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد گار ثابت ہوئیں۔  صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو "دیوانہ" قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر وہ ایٹم بم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے اسرائیل، مشرق وسطیٰ، یورپ اور خود امریکہ کے خلاف استعمال کریں گے۔

 امریکی صدر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے چینی ہم منصب شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر جبکہ چین ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے امکان سے نالاں ہے۔

ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پورے خطے کے ممالک کی خاطر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران پر زیادہ صبر نہیں کریں گے اور انہوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کی تکمیل میں تیزی لائے۔

ٹرمپ نے کہا "یہ محض وقت کی بات ہے، اگر ہم نہ رکتے تو یہ معاملہ کچھ اور ہفتوں تک جاری رہ سکتا تھا اور تب یہ ختم ہو جاتا، میں نے یہ کئی رہنماؤں کی درخواست پر کیا ہے، میرے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور یہ ان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کا قصہ ختم ہو چکا ہے، اب وہ یا تو معاہدہ کر سکتے ہیں یا انہیں نیست و نابود کر دیا جائے گا، میں ایسا کرنا نہیں چاہتا"۔

امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ان کے چینی ہم منصب نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی پیشکش کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے دورے نے چین اور امریکہ کے باہمی اعتماد کو گہرا کیا ہے اور افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے۔ مزید یہ کہ شی اور ٹرمپ نے  سٹریٹیجک استحکام کے لیے ایک نئے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔

 پہلے چین کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خطے میں جلد از جلد جامع اور مستقل فائر بندی تک پہنچنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ فوری حل کی تلاش امریکہ، ایران اور خطے کے تمام ممالک کے فائدے میں ہوگی۔