بارہ نشستوں کے معاملے پر تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے، طارق فضل چوہدری

Jun 15, 2026 | 18:29:PM
بارہ نشستوں کے معاملے پر تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے، طارق فضل چوہدری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد ترک)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ   پاکستان نے حالیہ عرصے میں سفارتی محاذ پر مؤثر کردار ادا کیا ہے اور وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی مشترکہ کاوشوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ 

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ میڈیا سینٹر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اہم قومی اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے میڈیا سے گفتگو کی جا رہی ہے، طارق فضل چوہدری نے کہا کہ امن معاہدہ جمعہ کے روز جنیوا میں طے پانے جا رہا ہے جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سردار فتح اللہ خان نے جن موضوعات پر بات کی، ان کا تعلق عوامی مسائل سے تھا، جن میں نہروں اور سیلاب متاثرین کے معاملات شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی یقین دہانیوں کے بعد سردار فتح اللہ خان نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے آزاد کشمیر میں کابینہ کا حجم بڑھایا اور ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ مطالبات میں سے 38 میں سے 35 نکات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ تین نکات عدالتی کارروائی کے باعث زیر التوا رہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے پاکستان کے لیے افسوسناک ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے 170 افراد کے خلاف قائم مقدمات ختم کرائے اور متاثرہ عام شہریوں کو معاوضے بھی فراہم کیے، تاہم اس کے باوجود احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا جس پر افسوس ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان واقعات میں ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ تشدد سے گریز کرے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے اس سے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم بالواسطہ رابطے موجود ہیں اور مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی بارہ نشستوں کے معاملے پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے تشدد یا تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کو اپنانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں :یکم محرم الحرام کو عام تعطیل کافیصلہ