اسرائیل عالمی امن و سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بن چکا جنگی جرائم پر جوابدہ بنایا جائے،اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بن چکا ہے،اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے،پاکستان درج ذیل اقدامات پر زور دیتا ہے،اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔
ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاکہ ہم ایک مرتبہ پھر ایک برادر، خودمختار ریاست پر اسرائیلی غیر قانونی حملے پر غورکیلئے جمع ہوئے ہیں،گزشتہ ماہ ہم جدہ میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کیلئے بھی ملے تھے، ان اجلاسوں کی کثرت خود ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بن چکا ہے،پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطر پر غیر قانونی اور بلا جواز حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
نائب وزیر اعظم کاکہناتھا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 2(4) سمیت بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے،اسرائیل کا امریکہ اور مصر کے ساتھ ملکر جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف خودمختار ملک پر حملہ بلاجواز و قابلِ مذمت ہے، یہ اسرائیل کے اس رویے کو عیاں کرتا ہے جو عالمی قوانین و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتا ،فلسطینی عوام پر تقریباً دو برس سے اسرائیلی مظالم اس کے خطرناک عزائم کا ثبوت ہیں، اسرائیلی غیر قانونی دراندازیوں کا سلسلہ رکنا ضروری ہے،عرب و اسلامی دنیا کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار کاکہناتھا کہ پاکستان قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، پاکستان قطر کے حقِ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ان کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے، پاکستان قطر کی ثالثی اور جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتا ہے، قطر پر حملہ دراصل سفارتکاری اور ثالثی پر حملہ ہے،ان کاکہناتھا کہ پاکستان، الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ بطور رکنِ سلامتی کونسل اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں لایا ہے،اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل میں بھی ہنگامی بحث کی درخواست کی گئی ہے،تاکہ اسرائیل کو جوابدہ بنایا جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بطور غیر مستقل رکن سلامتی کونسل، او آئی سی و عرب ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے احتساب اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور امن کیلئے عالمی حمایت جاری رکھے گا،سلامتی کونسل کو اسرائیل پر ذمہ داری عائد کرنی چاہیے،سلامتی کونسل کو غزہ میں بین الاقوامی محافظ فورس کی تعیناتی سمیت عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے،پاکستان درج ذیل اقدامات پر زور دیتا ہے،اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنایا جائے،عرب اسلامی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے،یہ فورس اسرائیلی عزائم کی نگرانی کرے اور مربوط اقدامات کرے،او آئی سی کی اپیل کے مطابق اسرائیل کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی کوشش کی جائے،اسرائیل کے خلاف مزید تعزیری اقدامات پر غور کیا جائے، تاکہ اسرائیلی غیر قانونی اقدامات کی روک تھام ہو سکے۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ سلامتی کونسل باب ہفتم کے تحت اسرائیل سے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرے،سلامتی کونسل باب ہفتم کے تحت اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کرے،تمام متاثرہ شہریوں تک بلا روک ٹوک اور محفوظ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے، تمام متاثرہ شہریوں تک امدادی عملے و طبی ٹیموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
نائب وزیراعظم نے کہاکہ دو ریاستی حل کیلئے ایک حقیقی اور وقت بند سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے،پاکستان عالمی امن کے قیام کیلئے پُرعزم ہے،پاکستان بطور منتخب رکن سلامتی کونسل،او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر عالمی حمایت کو متحرک کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔