راستہ بھٹکنا ہوا مشکل، منزل تلاش کرنا ہو گیا آسان، گوگل نے کیا اختراعات میپس میں ڈال دیں، جانئے!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) راستوں سے ناواقف لوگوں کے لئے کسی بھی جگہ سفر کرنا، راستہ تلاش کرنا اور جائے مقصود پر سہولت کے ساتھ پہنچنا اب مزید آسان ہو گیا۔ گوگل میپ میں نقلاب آفریں بہتری آ گئی۔
ہوا یہ ہے کہ گوگل میپ میں ایک اور جدت لائی گئی ہے۔ اب یہ میپ تھری ڈی ہو گئے ہین ور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بھی خود کام لینے لگے ہیں۔
گوگل میپس نے اپنے صارفین کے لیے سفر کو مزید سہل بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والا نیا تھری ڈی فیچر شامل کر دیا ہے۔
اس جدید فیچر کی بدولت اب گوگل میپ کی مدد سے راستہ تلاش کرنے والوں ان کا مطلوبہ راستہ تھری ڈی امیجز کے ذریعہ سمجھایا جائے گا۔ سادہ نقشے کو سمجھنے میں بعض لوگوں کو دشواری ہوتی ہے، اب ان سب کو تھری ڈی امیج کی مدد سے راستوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے سڑکوں اور گلیوں کی بہتر شناخت اور راستے میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی بھی آسان ہو گئی ہے اور ایک نظر دیکھ کر ہی راستوں کو سمجھ لینا واقعتاً ممکن ہو گیا ہے۔
گوگل میپس نے اس کے ساتھ ساتھ ’آسک میپس‘ کا فیچر بھی پیش کیا ہے جو راستہ تلاش کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کر کے زیادہ آسان اور قابل فہم انداز میں راہنمائی کرے گا۔
یہ فیچر کم رش والے راستے تلاش کرنے، ایک سے زیادہ سٹاپس پر سفر کرنے اور سفر سے متعلق دیگر معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گوگل کے ان نئے اختراعات کو نقشوں میں شامل کرنے کا مقصد ٹیکنالوجی کی مدد سے نیوی گیشن کو مزید بہتر کرنا اور مدد مانگنے والوں کے وقت کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
ان نئے فیچر ز کے ذریعے مسافر کم معروف جگہوں، مشہور جگہوں اور ریستورانوں، حتیٰ کہ بالکل غیر معروف جگہوں اور آؤٹ لیٹس کے بارے میں آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
گوگل کے مطابق اس سسٹم کو دنیا بھر سے تقریباً 30 کروڑ مقامات اور 50 کروڑ صارفین کے ریویوز سے معلومات حاصل ہوتی ہیں، جس سے نتائج زیادہ درست اور پرسنلائزڈ ہو جاتے ہیں۔
گوگل میپس کی وائس پریزیڈینٹ نے ان نئے فیچرز کے متعلق بتایا کہ یہ تبدیلی اس پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اب میپس ہر مدد مانگنے والے کے لئے زیادہ پرسنلائزڈ کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: میٹرو بس کے کرائے میں اضافہ کردیا گیا،کس جگہ کتنا اضافہ ہوا؟
انہوں نے کہا کہ لوگ جب حقیقی دنیا میں کہیں جانا چاہتے ہیں تو میپس استعمال کرتے ہیں، اور اب یہ سروس منصوبوں کو فوری طور پر عملی شکل دینے میں مدد دے گی۔
بے چارا لاہور؛ جیمینائی نے کیا بتایا
جب ہم گوگل میپس کی شان میں قصیدے لکھ چکے تو گوگل کے جیمینائی نے بتایا کہ Google Maps فی الحال آزادی چوک انٹر چینج کا ہائی ریزولوشن، فوٹو ریئلسٹک 3D میش میپ فراہم نہیں کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بہت سے عالمی شہروں میں "3D عمارتیں" پیش کرتا ہے، لیکن یہ مخصوص خصوصیت ابھی تک لاہور کے لیے دستیاب نہیں ہے۔

Google Maps پر موجودہ دستیابی
جیمینائی نے بتایا کہ گوگل فی الحال سیٹلائٹ ویو (2D) پیش کرتا ہیے۔ اس کی مدد سے لاہور کے آزادی چوک انٹرچینج اور اس کے فلائی اوور کی اعلیٰ معیار کی 2D اوور ہیڈ تصویر دیکھ سکتے ہیں۔
Google Maps سیٹلائٹ پرت میں، آپ Ctrl کو پکڑ کر اور گھسیٹ کر نقشے کو "جھکا" کر سکتے ہیں۔ تاہم، جیمینائی کے مطابق، چونکہ لاہور کے علاقے کے لیے کوئی 3D میش ڈیٹا گوگل کے پاس نہیں ہے، اس لیے عمارتیں اور فلائی اوور 3D ڈھانچے کے طور پر ظاہر ہونے کے بجائے زمین پر فلیٹ ہی دکھائی دیں گے۔
3D عمارتوں کی تہہ:
"پہلے سے طے شدہ" نقشہ کے منظر میں، Google Maps بڑے ڈھانچے کی سادہ 2.5D وائر فریم خاکہ دکھا سکتا ہے، لیکن ان میں حقیقی 3D نقشے کی فوٹو گرافی کی تفصیل نہیں ہے۔