منیر احمد ڈار پاکستانی ہاکی کا درخشاں باب
تحریر :محمد الطاف میاں
Stay tuned with 24 News HD Android App
منیر احمد ڈار پاکستان کے اُن عظیم ہاکی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے قومی کھیل کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 28 مارچ 1935 کو امرتسر میں ایک کشمیری مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا، جہاں منیر احمد ڈار نے ہاکی سے اپنی وابستگی کا آغاز کیا۔ وہ اپنے اسکول اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور کی ہاکی ٹیم کا حصہ رہے۔
منیر احمد ڈار نے 1954 میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ 1956 کے میلبورن اولمپکس میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں قومی ٹیم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا، جو پاکستان کا اولمپک تاریخ میں پہلا تمغہ تھا۔
1958 کے ایشین گیمز میں انہوں نے فل بیک ہوتے ہوئے جنوبی کوریا کے خلاف ایک میچ میں پانچ گول کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا، اور پاکستان نے یہ مقابلہ 8-0 سے جیتا۔ اسی ایونٹ میں پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ منیر احمد ڈار نے مجموعی طور پر آٹھ گول اسکور کئے۔
1960 کے روم اولمپکس میں منیر احمد ڈار اس تاریخی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے جس نے بھارت کی 32 سالہ اولمپک ہاکی برتری ختم کر کے گولڈ میڈل جیتا۔ 1962 کے ایشین گیمز میں بھی انہوں نے چار گول کیے اور فائنل میں بھارت کو شکست دے کر ایک بار پھر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان نے چاندی کا تمغہ جیتا، جو منیر احمد ڈار کا تیسرا اولمپک تمغہ تھا۔
منیر احمد ڈار 1967 تک پاکستان کے مستقل فل بیک رہے اور 1965 سے 1967 تک قومی ٹیم کی کپتانی بھی انجام دی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 1966 کے ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لیے 92 میچز کھیلے اور 41 گول اسکور کیے، جو ایک فل بیک کے لیے غیر معمولی کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔
کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد منیر احمد ڈار نے ہاکی کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں پاکستان کی سینئر اور جونیئر قومی ٹیموں کی کوچنگ کی اور اپنے بھائی تنویر ڈار کے ساتھ مل کر پاکستان میں ایک ہاکی اکیڈمی قائم کی۔ ان کے خاندان نے بھی کھیلوں میں نمایاں خدمات انجام دیں؛ ان کے بڑے بیٹے توقیر ڈار 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔
ہاکی کے علاوہ منیر احمد ڈار کھیلوں کے دیگر شعبوں میں بھی سرگرم رہے۔ وہ گھوڑوں کے شوقین تھے اور ان کے کئی اعلیٰ نسل کے گھوڑوں نے لاہور ریس کلب میں کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ پاکستان کراٹے فیڈریشن کے بانی صدر رہے اور پاکستان رگبی یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ پولیس افسر تھے اور 1985 سے 1995 تک پولیس اسپورٹس بورڈ کے چیئرمین رہے، جہاں ان کے دور میں پولیس کے کھلاڑیوں نے قومی، ایشیائی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
منیر احمد ڈار پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث یکم جون 2011 کو انتقال کر گئے۔ انہیں ڈیفنس قبرستان، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ بعد از وفات بھی ان کی خدمات کو سراہا جاتا رہا۔ انہیں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ہاکی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا اور 2015 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
منیر احمد ڈار کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف میدان میں بلکہ میدان سے باہر بھی پاکستانی کھیلوں کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، اور ان کا نام قومی ہاکی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر