شیخ حسینہ کے آمرانہ دور کی دستاویزی فلم جاری

Sep 13, 2025 | 13:00:PM
شیخ حسینہ کے آمرانہ دور کی دستاویزی فلم جاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ پر بننے والی ایک تہلکہ خیز دستاویزی فلم جاری کی ہے۔

 فلم میں بنگلہ دیش کے مقامی اور عالمی ماہرین کی رائے شامل کی گئی ہیں۔

جاری کردہ دستاویزی فلم کا عنوان (Bangladesh’s Missing Billions Stolen in Plain Sight) رکھا گیا ہے۔

دستاویزی فلم میں ماہرین نے تحقیقات کی مدد سے شیخ حسینہ کی بدعنوانی کا پردہ فاش کیا ہے۔

مذکورہ ڈاکیومنٹری میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے دوران مبینہ طور پر 234 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملک سے باہر منتقل کی گئی تھی۔

فلم کا آغاز جولائی 2024 میں ہونے والی عوامی بغاوت اور مظاہروں کے پس منظر سے ہوتا ہے، جن کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

 اس تحریک میں سرگرم طلبہ رہنما رافیہ رہنماء ہریدی اور رضوان احمد رفاد کی شرکت ڈاکیومنٹری میں نمایاں ہے۔

دستاویزی فلم میں شیخ حسینہ کے خاندان کے افراد پر بیرون ملک جائیدادوں اور آف شور اثاثوں سے متعلق سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کی گئی دولت کا ایک بڑا حصہ لندن میں جائیدادوں کی صورت میں موجود ہے۔

فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ اس رقم کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے اوورانوائسنگ، انڈر-انوائسنگ، غیر رسمی مالیاتی نظام، اور بیرون ملک جائیدادوں کی خریداری جیسے مختلف طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔

فلم میں ان افراد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو ماضی میں بنگلہ دیش کی سیاسی اور کاروباری اشرافیہ سے وابستہ رہے ہیں۔

ان میں برطانوی رکن پارلیمنٹ اور شیخ حسینہ کی بھانجی ٹیولپ صدیق بھی شامل ہیں، جن پر قیمتی غیر ملکی جائیدادوں سے تعلق رکھنے کے الزامات لگے ہیں۔ 

ڈاکیومنٹری میں شریک ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس خطیر رقم کو واپس لانا نہایت طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا، جس میں قانونی، سفارتی اور سیاسی رکاوٹیں پیش آئیں گی۔