سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پاکستان کے آئین پر ایک سنگین حملہ ہے،یہ پاکستان کی سپریم کورٹ کو تحلیل کرتی ہے،27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کو انتظامیہ کے کنٹرول میں لاتی ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالت کو منقسم کر کے عدلیہ کی آزادی پامال کی گئی،تاریخ گواہ ہے آئین میں ایسی تبدیلیاں دیرپا نہیں ہوتیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میرے پاس دو راستے تھے ادارے کی بیخ کنی یا احتجاجاً استعفیٰ دینا،عہدے پر رہنا آئینی دراندازی پر خاموش رضا مندی کے مترادف ہوتا،ستائیسویں ترمیم نے سپریم کورٹ کا آئینی اختیار ختم کر دیا،ایسی عدالت میں رہنا ممکن نہیں جس سے اس کا آئینی کردار چھین لیا گیا ہو۔
خط میں کہا گیاکہ استعفیٰ حلف سے وفاداری کا واحد صاف اور دیانت دار راستہ ہے،حکومت اور متنازعہ عدالتی قیادت نے ترمیم کو قبول کیا،چیف جسٹس نے ادارے کے دفاع کے بجائے اپنے عہدے کو ترجیح دی،پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ رہی ہے،ستائیسویں ترمیم نے سپریم کورٹ کے اوپر نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کی،نئی عدالت عدالتی، جمہوری اور عام قانونی نظام سے متصادم ہے۔
سینئر جج سپریم کورٹ کا کہناتھا کہ ترمیم بغیر مشاورت،بحث یا عدلیہ کی رائے کے منظور کی گئی،حکومت کو اپنی مرضی کی عدالت بنانے کا اختیار دے دیا گیا،سپریم کورٹ کے اختیارات سلب کر لیے گئے،وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی مصلحت کے تحت وجود میں لایا گیا،آئینی حلف کی پاسداری اب ممکن نہیں رہی،یہ وہ عدالت نہیں رہی جس میں میں نے شمولیت اختیار کی تھی،اپنے فیصلے قانونی طلباء کیلئے چھوڑ رہا ہوں تاکہ وہ سیکھ سکیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کاکہناتھا کہ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب عدلیہ آزاد اور قانون کی حکمرانی قائم ہو،جب عدالتیں خاموش ہو جاتی ہیں، معاشرے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استعفیٰ کے آخر میں احمد فراز کے اشعار کا حوالہ بھی دیا۔
جسٹس اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ آئینِ پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا،گیارہ سال قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا،آئینی ترمیم سے قبل چیف جسٹس کو خط لکھ کر اپنے تحفظات ظاہر کیے تھے،میں نے کہا تھا کہ یہ ترمیم آئینی نظام کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،خاموشی اور بے عملی کے پس منظر میں خط والے خدشات اب حقیقت بن چکے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ میرے لیے پاکستان کے عوام کی خدمت کرنا سب سے بڑا اعزاز اور فخر کی بات رہی ہے،میں نے اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق اپنے فرائض آئینی حلف کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی، آج یہی وہ حلف ہے جو مجھے اپنا استعفی دینے پر مجبور کر رہا ہے،جس آئین کا میں نے دفاع اور پاسداری کا حلف لیا تھا وہ اب اپنی اصل شکل میں باقی نہیں رہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ 27 ویں ترمیم سے بڑا حملہ آئین پر نہیں ہوگا،اب جو باقی ہے وہ صرف ایک سایہ ہے جس میں نہ روح باقی ہے نہ وہ عوام کی آواز بولتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ فل کورٹ اجلاس میں کن امور پر بات ہوگی ؟، ایجنڈا سامنے آگیا