بلدیاتی انتخابات ،سندھ حکومت کا نوٹیفیکشن مسترد،پولنگ 15 جنوری کو ہی ہوگی

Jan 13, 2023 | 11:45:AM
بلدیاتی انتخابات ،سندھ حکومت کا نوٹیفیکشن مسترد،پولنگ 15 جنوری کو ہی ہوگی
کیپشن: سندھ میں 15 جنوری کو پولنگ ہوگی
سورس: 24 NEWS
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان،آزاد نہڑیو )سندھ میں بلدیاتی الیکشن ایک بار بڑے تنازع کا شکار ،سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کی ملی بھگت ،15 جنوری کو ہونیوالی پولنگ سے بھا گ گئے۔سندھ حکومت کراچی ،حیدر آباد ،دادود کے علاوہ پورے صوبہ میں الیکشن کروانے کو تیار ہے،الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت  کے نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا،الیکشن 15 جنوری کو ہی کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔جماعت اسلامی نے الیکشن آفس کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا ۔

چیف الیکشن کمشنر کے زیرصدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ختم ہوگیا،اجلاس میں صوبائی گورنمنٹ سندھ کی درخواست اور نوٹیفکیشنز پر غور کیا گیا،صوبائی حکومت نے کراچی ڈویژن، حیدرآباد اور دادو ضلع کی دو تحصیلوں خیرپور ناتھن اور مہر کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی،الیکشن کمیشن نے قانونی اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کو نامنظور کر دیا

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کراچی ڈویژن، حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں انتخابات شیڈول کے مطابق 15 جنوری کو ہی ہوں گے۔اس ضمن میں الیکشن کمیشن ایک آرڈر جاری کر رہا ہے،الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ انتخابات کے دوران انتہائی حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوج/ رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ 

ضرور پڑھیں :کراچی، حیدرآباد اور دادو میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے: حکومتِ سندھ

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیوایم) کی جانب سےڈی لمیٹیشن پر تحفظات کے بعد سندھ حکومت کا اچانک غیرمعمولی اعلان سامنے آیا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور دادو میں 15 تاریخ کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہو رہے۔بلاول بھٹو کی صدارت میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے  وزیر اعلیٰ سندھ اور بعض دیگر وزرا کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے ہیں، کراچی، حیدرآباد اور دادو میں15 جنوری کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جارہے ہیں البتہ سندھ کے باقی تمام اضلاع میں الیکشن معمول کے مطابق ہوں گے۔

واضح رہے کہ دھڑوں کے انضمام کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے گزشتہ روز مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پہلا بڑا اعلان کیا اور دھمکی دی کہ15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیں گےفاروق ستار نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے باہر نکل آئيں، شارع فیصل پر دھرنا دیں دیکھتے ہیں کیسے 15 جنوری کو الیکشن ہوتاہے جبکہ مصطفیٰ کمال نے کہا کچھ لوگ ذرا شریف کیا ہوئے سارا شہر ہی بدمعاش بن گيا۔اس کے علاوہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں ٹھیک کرلیں، پھرکل ہی الیکشن کرالیں۔

جماعت اسلامی کا آج دھرنے کا اعلان 

سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے،امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ  آج بروز جمعہ 13 جنوری کو الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا اور احتجاج ہوگا۔یہ دھرنا تین بجے شروع ہوگا۔

کراچی میں جماعت اسلامی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موؤمنٹ ( ایم کیو ایم ) عوام سے خوفزدہ ہیں، الیکشن کمیشن خط کو بنیاد بنا کر الیکشن ملتوی نہیں کرسکتا۔الیکشن کمشنر سوموٹو لیکر انتخابات کو یقینی بنائے، الیکشن کمیشن خط کو واپس پھینک کر الیکشن کو یقینی بنائے۔ اس موقع پر انہوں نے آج بروز جمعہ 13 جنوری کو دن تین بجے الیکشن کمیشن کے آفس کے باہر احتجاج کا اعلان بھی کیا۔

جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا احتجاج کا دائرہ بڑھائیں گے:حافظ نعیم الرحمان

کارکنوں اور ہمدردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کراچی کے امیر نے کہا کہ کراچی سے محبت کرنے والے تمام افراد آج گھروں سے نکلیں اور الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں،صوبائی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مختلف حصوں میں دھرنے دے سکتے ہیں، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا احتجاج کا دائرہ بڑھائیں گے۔رات کی تاریکی میں سندھ حکومت نے شب خون مارا، عوام کو آئینی حق سے پیپلز پارٹی نے محروم کیا، مفادات کی خاطر الیکشن ملتوی کئے گئے، عوام کے مینڈیٹ سے حوفزدہ ہوکر الیکشن ملتوی کئے گئے۔

چیف الیکشن کمشنر سندھ حکومت کا فیصلہ مسترد کرسکتا ہے:سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن

 ادھر نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا سندھ حکومت کا حلقہ بندیوں کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چیف الیکشنر کمشنر رولز 218۔219 اور 237 کے تحت سندھ حکومت کا فیصلہ مسترد کر سکتا ہے۔کنور دلشاد کا کہنا تھا اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ سندھ حکومت آرڈریننس لانا چاہتی ہے، اگر آرڈیننس آ جاتا ہے تو الیکشن کمیشن بے بس ہو جاتا ہے، آرڈیننس آگیا تو الیکشن کمیشن کو شیڈول واپس لینا ہو گا۔

یاد رہے سندھ میں بار بار الیکشن ملتوی ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے 15 جنوری کو پولنگ کروانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔