سابق وزیراعظم کے بیٹے کا خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان

Dec 13, 2025 | 08:27:AM
سابق وزیراعظم کے بیٹے کا خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ اس کے قائم مقام چیئرمین اور خالدہ ضیا کے بیٹے  طارق رحمان 25 دسمبر کو وطن واپس آئیں گے، جس کے ساتھ ہی ان کی تقریباً 18 سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم ہو جائے گی۔

یہ اعلان جمعہ کی رات ڈھاکا میں بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طارق رحمان کی واپسی پورے قوم کے لیے راحت اور امید کا پیغام ہے۔

فخر نے کہا کہ طارق رحمان، جو طویل عرصے سے ملک سے باہر رہ کر پارٹی کی جمہوری تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، لاکھوں بنگلہ دیشیوں کے دلوں میں انتہائی احترام رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہمارے قائم مقام چیئرمین، لاکھوں عوام کے محبوب رہنما، جنہوں نے طلبا کی قیادت میں جمہوری بیداری کی تحریک کو کامیابی کے دہانے تک پہنچایا، 25 دسمبر کو ڈھاکا پہنچ رہے ہیں۔ ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پوری قوم کو یہ خوشخبری دیتے ہیں۔

فخرالاسلام نے مزید کہا کہ طارق رحمان کی وطن واپسی کے بعد ملک میں جمہوری عمل کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی ختم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

انہوں نے لندن میں طارق رحمان اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے کہ عام انتخابات فروری 2026 تک کرا دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں موجود 2 ہزار افغان شہریوں کا دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا انکشاف
انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے اور جمہوریت کی ٹرین دوبارہ پٹری پر آ گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انقلاب منچہ کے امیدوار شریف عثمان بن ہادی پر فائرنگ کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جمہوریت دشمن عناصر انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

فخرالاسلام نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔

فخرال نے ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال (ڈی ایم سی ایچ) میں ایک حریف سیاسی گروپ کے کارکنوں کے رویّے پر بھی سخت تنقید کی۔

ان کے مطابق بی این پی کے سینیئر رہنما مرزا عباس جو ڈھاکا-8 کے امیدوار بھی ہیں ہادی کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے تھے، لیکن ایک دوسری جماعت کے کارکن وہاں جمع ہوگئے اور اشتعال انگیز نعرے بازی شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں،ہم ہر فریق کو واضح طور پر خبردار کرتے ہیں کہ اگر کسی نے ہمیں دھمکانے یا اشتعال دلانے کی کوشش کی تو بی این پی خاموش نہیں بیٹھے گی۔ ہم بدامنی نہیں چاہتے، مگر اگر ہم پر حملہ ہوا تو جواب دینا جانتے ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ ماحول کو کشیدہ کرنے سے گریز کریں تاکہ انتخابی عمل متاثر نہ ہو اگر اشتعال انگیزی جاری رہی تو جمہوری انتقالِ اقتدار کا راستہ خطرے میں پڑ جائے گا۔