گوگل کروم کی بولی لگ گئی، طاقتور اے آئی پلیٹ فارم ممکنہ خریدار 

Aug 13, 2025 | 12:07:PM
گوگل کروم کی بولی لگ گئی، طاقتور اے آئی پلیٹ فارم ممکنہ خریدار 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی سٹارٹ اپ کمپنی پرپلیکسٹی اے آئی نے گوگل کو اس کے مقبول ویب براؤزر کروم کی خریداری کے لیے 34.5 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ 

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پرپلیکسٹی کے سی ای او اراوِند سرینیواس کے مطابق، یہ تجویز عوامی مفاد میں اینٹی ٹرسٹ (Antitrust) مقدمے کے ممکنہ فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے ہے، تاکہ کروم کو ایک آزاد اور قابل ادارے کے حوالے کیا جا سکے جو تسلسل، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

 گوگل اس وقت امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج امیت مہتا کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، جو گزشتہ سال دیے گئے اس تاریخی فیصلے کے بعد سنایا جائے گا جس میں گوگل کو آن لائن سرچ میں غیر قانونی اجارہ داری کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ امریکی سرکاری وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ گوگل کو اپنا کروم براؤزر فروخت کرنا چاہیے، کیونکہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں اس کی اجارہ داری مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے محمد آصف کو ورلڈ گیمزسنوکر کے سیمی فائنل میں شکست

تاہم گوگل نے اس تجویز کو مسترد کرنے کی اپیل کی ہے، اور جج کا فیصلہ اس ماہ کے آخر تک متوقع ہے، گوگل کے وکیل جان شمڈٹ لائن کا کہنا ہے کہ کروم کے 80 فیصد سے زائد صارفین امریکہ سے باہر ہیں، اس لیے اس کی فروخت عالمی سطح پر اثر ڈالے گی اور ’فروخت شدہ کروم اپنی موجودہ حیثیت کا صرف سایہ رہ جائے گا‘۔

بیرڈ ایکوئٹی ریسرچ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، پرپلیکسٹی کی پیشکش کروم کی اصل قدر سے کہیں کم ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے، ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ پرپلیکسٹی پہلے ہی ایک براؤزر چلا رہی ہے جو کروم کا مقابلہ کرتا ہے، اس لیے یہ پیشکش دیگر خریداروں کو بولی لگانے پر آمادہ کرنے یا اینٹی ٹرسٹ کیس کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:جشن آزادی معرکہ حق ، کراچی میں خصوصی آزادی ٹرین کا افتتاح

ادھر کیٹو انسٹی ٹیوٹ کی ٹیکنالوجی پالیسی ماہر جینیفر ہڈل اسٹن کا کہنا ہے کہ کروم کی فروخت یا ڈیفالٹ معاہدوں پر پابندی مقابلے کو فروغ دینے کے بجائے جدت کو نقصان پہنچائے گی اور چھوٹے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مائیکروسافٹ، چیٹ جی پی ٹی اور پرپلیکسٹی جیسی کمپنیز جنریٹیو اے آئی (Generative AI) کے ذریعے انٹرنیٹ سے معلومات فراہم کرنے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ گوگل بھی اپنی سرچ اور دیگر آن لائن سروسز میں اے آئی کو شامل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔