سلیم بخاری نے لائیو پروگرام میں بھارتی دہشتگردی کا پردہ چاک کر دیا 

Aug 13, 2025 | 00:24:AM
سلیم بخاری نے لائیو پروگرام میں بھارتی دہشتگردی کا پردہ چاک کر دیا 
سورس: 24News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ  احمد) معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے بھارتی دہشتگردوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دو بڑی  دہشتگردتنظیموں  کا تعلق بھارت کھلے عام لے چکا ہے۔

مودی اور اجیت دوول  نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور اس کی باقاعدہ فنڈنگ جو کہ اجیت دوول نے  ایک دہشتگردی کا سیل بنایا ہو ا ہے اس سے ہو رہی ہے جو کہ ایک بہت بڑی  فنڈنگ ہے  جو کہ ایک بلین  ڈالر سالانہ ہے۔

معروف تجزیہ کار  نے  ’’سلیم بخاری شو‘‘ کے دوران  امریکہ کی جانب سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد گروپ قرار دینے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمول کی کاروائی نہیں ہے اس کو اگر  سفارتی لحاظ سے دیکھیں تو بہت اہم ڈیولپمنٹ ہے۔

انہوں  نے کہا کہ جب فیلڈ مارشل کے پہلے دورے کے بعد سوال اٹھائے تھے کہ وہ کر کے کیا آئے ہیں لیکر آنے کا تو پتہ نہیں لیکن دیکر کیا آئے ہیں۔کہیں کچھ زیادہ دیکر تو نہیں آئے ہیں  اس وقت شاید یہ مناسب  نہ سمجھا گیا کہ اس کی تفصیل بتائی جاتی لیکن اگر بتا بھی دیتے تو شاید اتنا تاثر نہ پڑتا جتنا کہ امریکہ کی طرف سے بیان نے تاثر چھوڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمجو دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ پاکستان میں اس  دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔امریکہ کے اس اعلان نے اس موقف  کی تصدیق کر دی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی جنگ کے بعد سے دو تین چیزیں ایسی ہوئی ہیں ایک تو جو وکڑیز  ہم دعوی کرتے ہیں وہ پوری دنیا نے قبول کی ہیں اس کے ہم نے ثبو ت دیے ہیں، چاہے وہ انڈین فائٹر جیٹ  رفال کی تباہی ہے یا ان کی تنصیبات پر حملے ہیں  جبکہ انڈیا نے تین مہینے کے بعد جو پاکستان کے جہاز گرانےکا دعوی کیا ہے اس پر تو وہ کمپنی جس نے جہاز بنائے ہیں وہ ہی جواب دے چکی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔

اس سوال کے جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کی دعوت دیدی اور کہا کہ پارلیمانی سیاست میں مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات سے ممکن ہےاور اسپیکر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، گرینڈ جرگہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔

تمام سیاسی قوتوں کو اس پارلیمان کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن اسے تعمیری مکالمے میں بدلنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ بخاری  صا حب نے کہا کہ پہلی دفع جو  کچھ ہوا تھا اس میں تینوں فریق  کی مرضی بھی شامل تھی  لیکن جب فائینل مسودہ تیار ہوا تو بانی  نےبغیر کسی وجہ کے مزاکرات یہ کہکر ختم کر دئیے تھے کہ مزاکرات صرف مقتدر حلقوں سے ہی ہونگے۔

بخاری صاحب نے شاہ محمود قریشی کی بریت اور عدالت سے رہائی کے احکامات پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ایس لگتا ہے کہ تحریک انصاف میں مائنس ون فارمولا پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اور شائد اسٹیبلشمنٹ اس پر کام کر رہی ہے  کیوں کہ شاہ محمود کی بریت اور جیل سے جن راہنماوں نے مزاکرات کے حق میں خط لکھا تھا ان  میں شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی قیاد ت میں پارٹی کو دوبارہ فارم کیا جائے اور اسے مین سٹریم پالیٹکس کا حصہ بنا دیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ووٹ بینک تو عمران خان کا ہے  اور ووٹر صرف بانی کو ہی ووٹ دیتا ہے  اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ یہ بات بھی اب شاید پرانی ہو چکی ہے کیونکہ گرانڈ  حقیقت تبدیل ہو چکی ہے، اب ووٹر  شاید تحریک انصاف کو اتنا ووٹ نہ دیں کہ وہ جیت سکیں۔ 

بخاری صا حب نے کہا کہ 22 ستمبر کو نیویارک میں بین الاقوامی امن کانفرنس کی تیاری ہو رہی ہےجس کو سعودی عرب سپانسر کر رہا ہے ایک بڑی تعداد یورپی ملکوں کی اور ایک بڑی تعداد مسلمان ملکوں کی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے جارہے ہیں۔جس کا حتمی اور منطقی  نتیجہ یہ ہوگا کہ غزہ پر اسرائیل کے قبضہ کرنے کا جواز نہیں رہے گا کیوں کہ غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔چاہے وہ مغربی کنارہ ہے چاہے وہ رملہ ہے  اور چاہے وہ غزہ ہے۔