بانی اور بشریٰ بی بی کی فیملی کو ملاقات نہ دینا سخت گیر رویہ،جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا؛بیرسٹر گوہر

May 12, 2026 | 18:26:PM
بانی اور بشریٰ بی بی کی فیملی کو ملاقات نہ دینا سخت گیر رویہ،جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا؛بیرسٹر گوہر
کیپشن: بیرسٹر گوہر، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(محمد اویس)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی اور انکی اہلیہ کی بگڑتی صحت پر فیملی کو ملاقات نہ دینا سخت گیر رویہ ہے،اب وقت اور حالات کا ادراک کرکے عوام کی منشا کے خلاف مزید اقدامات نہ کریں،سخت گیر رویہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ حکومت جتنے ریڈ زون قائم کرے عوام کو کوئی نہیں روک سکتا، ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر مذمت کیلئے الفاظ کا چناؤاب مشکل ہوگیا ہے،ان کاکہناتھا کہ ہمیں امید تھی دوسری طرف ایک قدم پیچھے ہٹ کر حالات بہتری کی طرف جائینگے،دوسری طرف کا سخت رویہ حالات اور ملاقاتوں میں رکاوٹ کا سبب ہے،بانی اور انکی اہلیہ کی بگڑتی صحت پر فیملی کو ملاقات نہ دینا سخت گیر رویہ ہے،اب وقت اور حالات کا ادراک کرکے عوام کی منشا کے خلاف مزید اقدامات نہ کریں،سخت گیر رویہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ سیاسی مسائل کو سلجھانے کی ضرورت ہے اسکو پیچیدہ نہ کریں،حکومت آنے والی ترامیم پر عوام کے سامنے اپنا موقف واضح کرے ،ایک تشویش یہ بھی ہے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کیا جارہا ہے،مضبوط صوبے مضبوط وفاق کی علامت ہے،عدلیہ سے بھی درخواست ہے کیسز میں تفریق نہ ڈالیں،عدلیہ سے عوام کی امیدیں مدہم پڑ رہی ہیں،آج بھی بشری بی بی کی درخواست پر تاریخ دے دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:نئے وزیراعلیٰ وجے کابڑاایکشن! پابندی لگا دی

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ حالات کو بہتر کرنا ہے تو فیملی کی ملاقاتیں بحال کرنی پڑیں گی،بانی اور بشریٰ بی بی کی فیملی اور ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے، ان کاکہناتھا کہ کے پی میں دہشتگردی پر ہمارے کنسرن ہیں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے،دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیئے،دہشت گردی اور انکے سہولت کاروں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں،دہشتگردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

بیرسٹر گوہر کاکہناتھا کہ وزیراعظم کی جانب سے شاید محمود خان اچکزئی سے رابط کیا گیا ہے،وزیر قانون نے بھی اقلیتی کمیشن کے بارے رابط کیا ہے، الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کیلئے بھی ملاقات ہونی ہے،اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے فریقین میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، حکومت کو دروازے کھولنے چاہیئے بداعتمادی سے حالات بہتر نہیں ہونگے۔

ان کاکہناتھا کہ دفعہ 144 لگانے کی کیا ضرورت ہے فیملی کو ملاقات دیں،بانی کو چار مرتبہ بشریٰ بی بی کو تین مرتبہ ہسپتال لے کر گئے،فیملی اور پارٹی کو نہیں معلوم انکی صحت کی صورتحال کیا ہے،تصادم کی طرف حالات نہیں لے کے جانے چاہیئے،مذاکرات ضرور ہونے چاہیئے مذاکرات کا مینڈیٹ اچکزئی صاحب کے پاس ہیں، عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے فریقین کے مابین بداعتمادی ختم کرنی پڑے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کے پی نے اڈیالہ آنے کا کہا ہے تصادم کی بات نہیں کی ہے،ہم نے ہر عدالتی حکم کی پابندی کی ہے،کارکنان کا لیڈر شپ پر غصہ جائز ہے،ہم مانتے ہیں ہم کارکنان کی توقعات پر پورے نہیں اترے،میں اسی لئے کہتا ہوں سخت گیری حالات کو تصادم کی طرف لے جائیں گے،ہم سمجھے ہیں ایک وقت پر ہمارے ہاتھوں سے بھی چیزیں نکل جائینگی،بانی سے ملاقاتوں اور علاج پر اچکزئی صاحب نے میں نے بھی کل اسمبلی میں بات کی،ہم نے سپیکر سے رولنگ مانگی تھی لیکن حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیں:پٹرول مزید  فی لیٹر کتنامہنگا ہو گا۔۔؟ پریشان کن خبر سامنے آ گئی