پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا نیپرا فارمولے کیخلاف سخت ردعمل،بھرپور مزاحمت کا اعلان

Feb 12, 2026 | 09:38:AM
پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کا نیپرا فارمولے کیخلاف سخت ردعمل،بھرپور مزاحمت کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے چیف کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین اور میڈیا کوآرڈینیٹر جنوبی پنجاب محمد سلیم مغل نے وفاقی حکومت کی حالیہ توانائی پالیسیوں اور نیپرا فارمولے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے، انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد، معاشی استحکام اور توانائی کے منصفانہ نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فارمولے کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔

رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بل پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہے ہیں، ایسے میں نیپرا فارمولے کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے یا سولر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں تبدیلی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور ان کی مالی ذمہ داریوں کا بوجھ براہِ راست غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنا معاشی ناانصافی ہے۔

پارٹی رہنماوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نجی پاور پلانٹس سے 30 روپے فی یونٹ یا اس سے زائد قیمت پر بجلی خرید رہی ہے اور بعد ازاں لائن لاسز، ٹیکسز اور سرچارجز شامل کر کے وہی بجلی 40 سے 50 روپے فی یونٹ تک صارفین کو فروخت کی جا رہی ہے تو اس نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان واضح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امن دشمنوں کا وار ،معروف عالم دین اہلخانہ سمیت شہید

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں کا تعین کرتے وقت پیداواری لاگت، ترسیلی نقصانات اور انتظامی اخراجات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں نے مزید کہا کہ حالیہ نیپرا نوٹیفکیشن کے نتیجے میں ہزاروں گھروں میں نصب شمسی توانائی کے نظام متاثر ہوں گے، نیٹ میٹرنگ ریٹ میں ممکنہ کمی یا پالیسی تبدیلی ان شہریوں کے ساتھ زیادتی ہے جنہوں نے حکومتی ترغیب پر لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا،اس فیصلے سے نہ صرف صارفین کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ ملک میں گرین انرجی کے فروغ کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے اس امر پر بھی اعتراض اٹھایا کہ اتنے اہم عوامی معاملے کو متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں میں تفصیلی بحث کے بغیر نافذ کرنا پارلیمانی روایات اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ریگولیٹری ادارہ پارلیمان سے بالاتر نہیں ہو سکتا، لہٰذا نیپرا سے متعلق تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ میں زیر بحث لائے جائیں اور عوامی نمائندوں کی آراء کو شامل کیا جائے۔

مزید پڑھیں:ارکان دست و گریباں،پارلیمنٹ  میں  ہنگامہ مچ گیا

رہنماؤں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس مبینہ ظالمانہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر آئینی و جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی،انہوں نے عوام، سول سوسائٹی اور تاجر تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر شعور بیدار کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی مفادات کے تحفظ اور معاشی انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔