جی بی اے 9 ضمنی انتخاب: سخت مقابلے کے بعد پیپلز پارٹی کے اختر عباس ناشاد کامیاب

Sep 06, 2026 | 20:59:PM
جی بی اے 9 ضمنی انتخاب: سخت مقابلے کے بعد پیپلز پارٹی کے اختر عباس ناشاد کامیاب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 9 (سکردو 3) کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اختر عباس ناشاد نے کانٹے دار مقابلے کے بعد آزاد امیدوار کو 305 ووٹوں سے شکست دے کر یہ نشست جیت لی ہے۔

اتوار کو جاری ہونے والے فارم 47 کے سرکاری نتائج کے مطابق اختر عباس ناشاد نے 8,399 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل آزاد امیدوار وزیر سلیم نے 8,094 ووٹ لیے۔

 اس سخت ترین مقابلے میں حلقے کا مجموعی ٹرن آؤٹ 51.79 فیصد رہا۔ دونوں حریفوں کے درمیان انتخاب کے آغاز سے لے کر حتمی مراحل تک انتہائی کڑا مقابلہ جاری رہا، تاہم آخری لمحات میں اختر عباس نے معمولی مگر فیصلہ کن برتری حاصل کر کے میدان مار لیا۔

 گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 9  کی اس نشست پر ضمنی انتخاب کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ نے جون کے عام انتخابات میں کامیاب قرار دیے جانے والے پی پی پی کے امیدوار اور اختر عباس کے والد فدا محمد ناشاد کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

والد کی نااہلی کے بعد ان کے صاحبزادے اختر عباس انتخابی دنگل میں اترے اور ووٹرز کی ہمدردی کے ساتھ ساتھ اپنے والد کا روایتی ووٹ بینک سمیٹ کر اس نشست کو دوبارہ پارٹی کے پاس لے آئے۔ سیاسی تجزیہ کار پہلے ہی اس حلقے میں سخت مقابلے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔

 انتخابات کو پُرامن اور شفاف بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر (ڈی آر او) حمزہ مراد کے مطابق اس حلقے میں کل 61 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے 25 کو حساس (کیٹگری اے)، 11 کو درمیانے درجے حساس (کیٹگری بی) اور 25 کو نارمل (کیٹگری سی) قرار دیا گیا تھا۔

 ووٹرز کی سہولت کے لیے مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا جبکہ جی بی سکاؤٹس کے علاوہ 800 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جس کی بدولت پورا انتخابی عمل مجموعی طور پر پُرامن اور نظم و ضبط کا حامل رہا۔ 

اس کامیابی کے ساتھ ہی گلگت بلتستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

کل 33 نشستوں پر مشتمل جی بی اسمبلی میں اب پی پی پی کے ارکان کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔

موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق اب پی پی پی کے پاس 15، مسلم لیگ ن کے پاس 9، استحکامِ پاکستان پارٹی کے پاس 6 جبکہ مجلس وحدت المسلمین اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد نشست ایک ایک رکن کے پاس موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیفا صدر آئندہ مارچ  میں چوتھی اور آخری مدت کے لیے دوبارہ الیکشن لڑیں گے