راولپنڈی پولیس نے علیمہ خان اور نورین نیازی گرفتاری کے بعد رہا

Aug 12, 2025 | 21:27:PM
راولپنڈی پولیس نے علیمہ خان اور نورین نیازی گرفتاری کے بعد رہا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشاد قریشی)راولپنڈی پولیس نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان اور نورین نیازی کو داہگل ناکے پر تحویل میں لے لیا، پولیس علیمہ خان اور نورین نیازی کو وین میں لے کر چکری انٹرچینج روانہ ہو گئی تاہم بعد ازاں ان کو رہا کردیا گیا۔ 

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر دھرنا دے رکھا تھا۔ اس موقع پر دھرنے کی وجہ سے اڈیالہ روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔پولیس نے 6 کارکنوں کو حراست میں لے کر وین میں بیٹھا لیا تھا تاہم بعد میں ان کو چھوڑ دیا گیا۔

دھرنے میں سلمان اکرم راجہ، نیاز اللّٰہ نیازی، نعیم پنجوتھا و دیگر وکلاء بھی علیمہ خان کے ساتھ موجود تھے، علیمہ خان نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میڈیا کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چاہیں تو رات 12 بجے بھی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرا سکتے ہیں، مجھے 3 ماہ سے جبکہ دیگر بہنوں کو 6 ہفتوں سے ملاقات کرانے نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم اڈیالہ جیل ملاقات کے لیے آئے تھے، ہمیں جیل سے دور روکا گیا، میں نے ضمانت نہیں کرائی ہے، حراست میں لینا ہے تو لے لیں، ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم انصاف کے لیے کہاں جائیں؟ موجودہ حکومت کو اپنا ڈر ہے۔

 یہ بانیٔ پی ٹی آئی کو تنہا کرنا چاہتے ہیں، ہم جیل کے باہر بیٹھ جائیں گے کیونکہ ملاقات کرنے نہیں دی جاتی، اگر ملاقات کرنے نہیں دی گئی تو ہم آج یہیں بیٹھے رہیں گے۔

بعد میں بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے تھے اور دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ کو کلیئر کرکے ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی تھی، تاہم علیمہ خان اپنی بہن نورین نیازی کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر موجود تھیں۔

پولیس حکام نے علیمہ خان اور نورین نیازی سے واپس جانے کی درخواست کی تھی تاہم انہوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

 دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور پارٹی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے آج چکری انٹرچینج کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اڈیالہ جیل تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ  منگل کے روز قیدیوں سے ملاقات عدالت کے حکم کے تحت ہوتی ہے  مگر آج ہمیں جیل سے دو کلومیٹر پہلے ہی روک دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ بہنوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی  جب کہ کنٹینرز اور ویگنیں کھڑی کرکے راستے بند کر دیے گئے۔

علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ  رات نو بجے میری بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا  تاہم نعیم پنچھوتہ صاحب نے بھرپور کوشش کر کے انہیں رہا کروایا ،سلمان اکرم راجہ نے اسے  شرمناک عمل  قرار دیا اور کہا کہ  دوستوں پر لاٹھی چارج کیا گیا جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ 

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ہر ہفتے ملاقات روکی جاتی ہے اور یہ آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ دو سال سے عمران خان ناجائز قید میں ہیں، ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہیں، ہمیں جیل سے ڈر نہیں لگتا، پاکستانی قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔