کویت میں دہشتگردی کیلئے  فنڈز مہیا کرنے کے شبہ میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

Apr 12, 2026 | 18:09:PM
 کویت میں دہشتگردی کیلئے  فنڈز مہیا کرنے کے شبہ میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) کویت میں دہشتگردی کیلئے  فنڈز مہیا کرنے کے شبہ میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار  کئے گئے افراد  نے غیر قانونی طریقوں سے فنڈز جمع کیے ، کویتی سکیور ٹی حکام کو شبہ ہے کہ ان کا تعلق دہشتگردوں کے کسی منظم نیٹ ورک سے ہے۔
 
کویت میں دہشتگردی کیلئے مالی معاونت کرنے میں ملوث افراد کے خلاف  کارروائی  میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لینے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کویت ایرانی کے حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور خطہ میں کشیدگی عرج پر ہے۔

 کویت میں گرفتاریاں  کویت کی سکیورٹی ایجنسیوں نے کی ہیں۔ ٹوٹل 24 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کویتی سکیورٹی حکام کے حوالے سے کویت کے میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق گرفتار ہونے والوں پر   دہشتگردی کیلئے مالی تعاون فراہم کرنے کا الزام ہے۔ شبہ ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقوں سے فنڈز جمع کیے۔ یہ رقم  دہشت پسند / فینیٹِک  گروہوں تک پہنچائی گئی۔

 کویتی حکام نے کہا، یہ ایک منظم نیٹ ورک ہو سکتا ہے۔ کویتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اور اس کی فنڈنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہ پر عمل کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ نیٹ ورک کے دیگر افراد اور روابط کا پتہ لگایا جا سکے۔

دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار تمام 24 افراد کویتی شہری
کویت کی وزارت داخلہ کے مطابق،  تمام 24 زیر حراست افراد کویت کے شہری ہیں،  وزارت نے نوٹ کیا کہ ان میں سے ایک فرد کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی۔
 ایک سیکورٹی ذریعہ نے اطلاع دی ہے کہ پانچ سابق کویتی قانون ساز اس وقت زیر حراست افراد میں شامل ہیں۔
اس  گروپ نے مبینہ طور پر غیر مشتبہ عطیہ دہندگان سے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے مذہبی اور خیراتی بہانے استعمال کیے تھے۔ بیرون ملک سے ہدایات کی بنیاد پر "ناجائز اداروں" کو منتقل کرنے سے پہلے ان رقوم کی تجارتی اور پیشہ ورانہ  تنظیموں کے ذریعے لانڈرنگ کی گئی۔


8 مشتبہ مفرور ہیں

حکام نے اس وقت بیرون ملک موجود آٹھ   کویتی شہریوں کی بھی نشاندہی کی ہے جو اسی منظم نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔
اگرچہ وزارت داخلہ نے باضابطہ طور پر کسی مخصوص تنظیم کا نام نہیں لیا ہے، گرفتاریاں ان افراد کے خلاف سخت حفاظتی کارروائیوں کے بعد کی گئی ہیں جن پر غیر ملکی حمایت یافتہ اداروں کی حمایت کرنے کا شبہ ہے۔ لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کا گزشتہ دنوں نام لیا جاتا رہا ہے تاہم حکام نے حالیہ گرفتاریوں کے ضمن میں اب تک ایسا کوئی اشارہ نہین دیا کہ ان کا تعلق حزب اللہ سے یا اس کے کسی کویتی پراکسی گروپ سے ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے مارچ کے تیسرے ہفتے کویت مین حزب اللہ کی مقامی شاخ سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ حزب اللہ نے کہا تھا کہ ان کی کویت میں کوئی شاخ نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  کویت کے بعد ابوظہبی میں بھی ایران اور حزب اللہ کے ایجنٹ پکڑے گئے