اے قائداعظمؒ تجھے سلام

تحریر ۔۔شازیہ کنول

Sep 11, 2025 | 17:50:PM
اے قائداعظمؒ تجھے سلام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان کی قوم پر جو احسان ہے قیامت تک شکر گزار رہیں۔لیکن یہ قوم  جو ہر سال 14 اگست کو جشن آزادی جوش و خروش سے مناتی ہے اور پاکستان ذندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتی ہے نے کبھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے سالانہ دن پر فاتحہ خوانی تو کیا کرنی یا ان کی مغفرت کی دعا کیا کرنی اللّٰہ کے حضور شکر گزار بھی نہیں ۔ملک میں افراتفری کا عالم ہے نفسہ نفسی کی جنگ میں اپنے آبا واجداد کو اس قدر بھول چکے  ہیں کہ صد افسوس ہے آئندہ نسلیں سوشل میڈیا کا شکار رہے گی یہ سن کر کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمارے لئے کیا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے لمحات کیسے گزارے اور دور حاضر کی نوجوان نسل کو اس کا ادراک ہی نہیں ۔سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں تاریخ کے اوراق کو کھول کر بیان کرنے کا رواج ہی ختم ہو چکا۔سوشل میڈیا کی چکا چوند نے نوجوانوں کے ذہنوں کو کچل کر رکھ دیا ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے  اس لئے علم کو پاکستان میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا تاریخ کے بارے کچھ علم نہیں۔ تاریخ کے مطابق یکم ستمبر 1948 کو جناح نے زیارت سے بری فوج کے سربراہ جنرل ڈگلس گریسی کے نام ایک خط تحریر کیا جو بدقسمتی سے ان کی آخری تحریر ثابت ہوئ۔ اس خط میں انہوں نے لکھا میں نے آپ کے خط کی ایک نقل قائد اعظم ریلیف فنڈ کے نائب صدر کو بھیج دی ہے اور میں نے اس فنڈ میں سے تین لاکھ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے جو تھل پروجیکٹ کے مہاجر فوجیوں کی بہبود کے لیے مخصوص ہے۔
اسی روز ڈاکٹر الٰہی بخش نے مایوسانہ لہجے میں محترمہ فاطمہ جناح کو بتایا کہ ان کے بھائی کو ہیمریج ہو گیا ہے اور انھیں فوراً کراچی لے جانا چاہیے کیونکہ کوئٹہ کی بلندی ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اگلے آنے والے دنوں میں جناح کی طبیعت مزید بگڑتی چلی گئی۔ پانچ ستمبر کو ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ ان پر نمونیا کا حملہ بھی ہوا ہے۔ڈاکٹر الٰہی بخش نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر مرزا ابوالحسن اصفہانی کو لکھا کہ وہ جناح کے لیے چند ڈاکٹروں کو بھجوا دیں۔ ان ڈاکٹروں کے نام ڈاکٹر فیاض علی شاہ نے تجویز کیے تھے۔ اسی دوران ڈاکٹر الٰہی بخش نے کراچی سے ڈاکٹر مستری کو بھی کوئٹہ بلوا لیا مگر اس کے باوجود جناح کی طبیعت میں کوئی افاقہ نہیں ہوا اور ان کی نقاہت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔یہ انہی دنوں کی بات ہے جب جناح کے سیکریٹری فرخ امین نے جناح سے کسی کی ملاقات کروانا چاہی تو ڈاکٹر الٰہی بخش نے ان کے کئی بار اصرار کرنے پر بھی یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے لکھا ہے کہ انھیں اس ملاقاتی کا نام نہیں بتایا گیا تھا تاہم اس وقت کے حیدرآباد دکن کے وزیراعظم میر لائق علی نے اپنی کتاب ’ٹریجیڈی آف حیدر آباد کے ایک باب میں جس کا عنوان ’جناح آن ڈیتھ بیڈ‘ ہے، میں لکھا ہے کہ یہ ملاقاتی وہ خود تھے تاہم اصرار کرنے کے باوجود جناح سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہوسکے۔دس ستمبر 1948 کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے فاطمہ جناح کو مطلع کیا کہ اب جناح کے زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور یہ کہ اب وہ فقط چند دنوں کے مہمان ہیں۔غالباً اسی دن جناح پر بےہوشی کا ایک غلبہ ہوا۔ اس بے ہوشی کے عالم میں ان کی زبان سے بے ربط الفاظ ادا ہو رہے تھے۔ وہ بڑ بڑا رہے تھے ۔کشمیر۔۔۔ انھیں فیصلہ کرنے کا حق دو۔۔۔ آئین۔۔۔ میں اسے مکمل کروں گا۔۔۔ بہت جلد۔۔۔ مہاجرین۔۔۔ انھیں ہر ممکن۔۔۔ مدد دو۔۔۔ پاکستان۔۔۔
گیارہ ستمبر 1948 کو جناح کو سٹریچر پر ڈال کر ان کے وائی کنگ طیارے تک پہنچا دیا گیا۔ جب انھیں طیارے تک لے جایا جا رہا تھا تو عملے نے انھیں سلامی دی اور پھر سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جناح نے انتہائی نقاہت کے باوجود فوراً ہی ان کا جواب دیا۔ ان کے ہاتھ کی جنبش سے محسوس ہوتا تھا کہ انھیں بستر مرگ پر بھی نظم و ضبط کے تقاضوں کا مکمل احساس تھا۔کوئٹہ سے کراچی تک کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوا۔ اس دوران جناح بڑے بے چین رہے۔ انھیں بار بار آکسیجن دی جاتی رہی، یہ فرض کبھی فاطمہ جناح اور کبھی ڈاکٹر الٰہی بخش ادا کرتے رہے۔ڈاکٹر مستری، نرس ڈنہم، نیول اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر احمد اور جناح کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری فرخ امین بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔ طیارہ جناح کو لے کر سہ پہر سوا چار بجے ماری پور کے ایئر پورٹ پر اترا۔ جناح کی ہدایت پر انھیں لینے کے لیے آنے والوں میں نہ حکومت کا کوئی اہم رکن موجود تھا، نہ ہی ضلعی انتظامیہ ان کی آمد سے باخبر تھی۔ ایئر پورٹ پر ان کا خیر مقدم کرنے والوں میں گورنر جنرل کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل جیفری نولز کے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا۔گورنر جنرل کے سٹاف نے انھیں سٹریچر پر ڈال کر فوجی ایمبولینس میں منتقل کیا۔ فاطمہ جناح اور فلس ڈنہم ان کے ساتھ بیٹھ گئیں جبکہ ڈاکٹر الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور کرنل جیفری جناح کی کیڈیلیک کار میں سوار ہوگئے۔
جناح کی ایمبولینس نے ابھی فقط چار میل کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ اس کا انجن پیٹرول ختم ہونے کے باعث ایک جھٹکے ساتھ بند ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ایمبولینس کے پیچھے پیچھے آنے والی کیڈیلیک کار، سامان بردار ٹرک اور دوسری گاڑیاں بھی رک گئیں۔قائد کی حالت اس قابل نہیں تھی کہ راستے میں بلاوجہ ایک لمحہ بھی ضائع کیا جاتا۔ ڈرائیور 20 منٹ تک انجن کو ٹھیک کرنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ آخر فاطمہ جناح کے حکم پر ملٹری سیکریٹری اپنی کار میں ایک اور ایمبولینس لینے کے لیے روانہ ہوگئے اور ڈاکٹر مستری بھی ان کے ساتھ تھے۔
ادھر ایمبولینس میں شدید حبس کا عالم تھا۔ سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ اس بےچینی پر مستزاد وہ سینکڑوں مکھیاں تھیں جو جناح کے چہرے کے اردگرد منڈلا رہی تھیں اور ان میں انھیں اڑانے کی سکت نہ تھی۔ فاطمہ جناح اور سسٹر ڈنہم باری باری انھیں گتے کے ایک ٹکڑے سے پنکھا جھلتی رہیں۔ ہر لمحہ بڑی اذیت میں گزر رہا تھا۔کرنل نولز اور ڈاکٹر مستری کو گئے ہوئے بڑی دیر ہوگئی تھی لیکن نہ فوجی ایمبولینس کا انجن درست ہوا اور نہ کوئی اور متبادل انتظام ہوسکا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش اور ڈاکٹر ریاض بار بار اپنے قائد کی نبض دیکھتے تھے جو بتدریج ڈوب رہی تھی۔ بابائے قوم کو ایمبولینس سے کار میں منتقل کرنا بھی ممکن نہیں تا کیونکہ سٹریچر کار میں رکھا نہیں جاسکتا تھا اور خود جناح میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کار میں بیٹھ یا لیٹ سکتے  اس موقع پر امر انتہا تعجب خیز ہے کہ دارالحکومت میں کسی نے یہ جاننے کی زحمت بھی نہ کی کہ جناح سوا چار بجے ایئر پورٹ پر اترنے کے باوجود ابھی تک گورنر جنرل ہاؤس کیوں نہیں پہنچے، ان کا قافلہ کہاں ہے اور ان کی طبیعت کیسی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جناح کی کراچی آمد راز رکھی گئی تھی مگر کیا واقعی حکومت کے اعلیٰ عہدے داران ان کی آمد سے باخبر نہ تھے؟ کیا کسی کو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ اسی صبح گورنر جنرل کا خصوصی طیارہ کوئٹہ بھیجا گیا ہے اور شام میں کسی بھی وقت دارالحکومت میں ان کی آمد متوقع ہے؟واقفان حال بتاتے ہیں کہ چار ستمبر 1948 کو جب کابینہ کے سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی گورنر جنرل کی نازک حالت دیکھ کر کراچی واپس پہنچے تھے تو اسی شام وزیراعظم ہاؤس میں کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ ناممکن ہے کہ اس اجلاس میں جناح کی بیماری زیر بحث نہ آئی ہو۔اس کے بعد جب میر لائق علی گورنر جنرل سے ملے بغیر کراچی واپس لوٹ آئے تو انھوں نے غلام محمد کی رہائش گاہ پر لیاقت علی خان ، چوہدری محمد علی اور سر ظفر اللہ خان کو جناح کی انتہائی تشویش ناک حالت سے آگاہ کیا اور بقول میر لائق علی کے ’تمام افراد حیرت زدہ رہ گئے تھے۔اس پس منظر میں جناح کی کراچی آمد سے حکومت کے کار پردازوں کی بے نیازی اور بے خبری تصویر کے کس رخ کی نشاندہی کرتی ہے؟ یہ سوال آج بھی لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان میں انڈیا کے پہلے ہائی کمشنر سری پرکاش نے اپنی کتاب پاکستان قیام اور ابتدائی حالات میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ان دنوں مقامی ریڈ کراس کے انچارج جمشید مہتا تھے جن کی عزت کراچی کا ہر فرد بشر کرتا تھا۔ بعد میں انھوں نے مجھے بتایا کہ مجھے شام کو پیغام ملا کہ ایک آدمی بہت علیل ہے۔ کیا آپ اس کے لیے ایمبولینس بھیج سکتے ہیں؟ یہ واقعہ ساڑھے پانچ بجے شام کا ہے۔
خدا خدا کر کے کرنل نولز اور ڈاکٹر مستری ایک دوسری ایمبولینس لے کر واپس آئے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہ وہی ایمبولینس ہوگی جس کا ذکر سری پرکاش نے کیا ہے۔جناح کو سٹریچر پر ڈال کر اس ایمبولینس میں منتقل کیا گیا اور یوں شام چھ بج کر دس منٹ پر وہ گورنر جنرل ہاؤس پہنچے۔ ایئر پورٹ سے رہائش گاہ تک کا نو میل کا فاصلہ جو زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ میں طے ہوجانا چاہیے تھا تقریباً دو گھنٹے میں طے ہوا۔ یعنی دو گھنٹے کوئٹہ سے کراچی تک اور دو گھنٹے ایئر پورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس تک۔یہ تکلیف دہ سفر جناح نے اس کسمپرسی کے عالم میں کیا کہ ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔سری پرکاش نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں تحریر کیا ہے کہ مسٹر جناح کے انتقال کے وقت فرانسیسی سفارت خانے میں کاک ٹیل پارٹی ہو رہی تھی۔ میں نے اس پارٹی میں نواب زادہ لیاقت علی خان سے مسٹر جناح کے آنے کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ مسٹر جناح سادہ مزاج آدمی ہیں اس لیے انہوں نے اس کو پسند نہیں کیا کہ ان کی آمد کے وقت ہنگامہ ہو۔گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے کے بعد جناح فقط سوا چار گھنٹے زندہ رہے اور اس دوران وہ تقریباً غنودگی کے عالم میں رہے۔ڈاکٹروں نے انھیں طاقت کا ایک انجکشن لگایا اور ڈاکٹر الٰہی بخش کے بقول جب انھوں نے ہوش میں آنے پر جناح سے کہا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے تو انھوں نے آہستگی سے کہانہیں میں زندہ نہیں رہوں گا۔ڈاکٹر الٰہی بخش کے مطابق یہ ’قائد اعظم‘ محمد علی جناح کے آخری الفاظ تھے۔ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے لکھا ہے کہ جناح کے آخری الفاظ ’اللہ۔۔۔ پاکستان‘تھے جبکہ فاطمہ جناح’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں جناح نے دو گھنٹے کی پرسکون اور بے خلل نیند کے بعد اپنی آنکھیں کھولیں، سر اور آنکھوں سے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ساتھ بات کرنے کی آخری کوشش کی۔ ان کے لبوں سے سرگوشی کے عالم میں نکلا: فاطی۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ لاالٰ بھیہ الاللہ محمد الرسول اللہ۔پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ اے قائد اعظم محمد علی جناح تجھے ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔ایک عظیم ہستی کا دیا ہوا تحفہ ہم سنبھال نہ سکے مگر ہم جدو جہد جاری رکھیں گے پاکستان ذندہ باد

یہ بھی پڑھیں:معرکہ دوارکا سے معرکہ حق تک