سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس؛ ججز کیخلاف دائر شکایات خارج ،2 چھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ

Jun 11, 2026 | 18:18:PM
سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس؛ ججز کیخلاف دائر شکایات خارج ،2 چھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ
کیپشن: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری) سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف دائر دس شکایات خارج کر دیں۔ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں 2 چھٹیوں کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ ہوا،ضلعی عدلیہ میں دوبارہ ہفتے میں 6 دن کام ہوگا۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس  ہوا،ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف دائر دس شکایات خارج کر دیں،خارج کی گئیں شکایات سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کے خلاف تھیں۔

ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا،اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز میں بھی ترمیم پر غور کیا گیا،ججز ضابطہ اخلاق اور رولز میں ترمیم کا معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین اور جسٹس حسن اظہر رضوی شریک ہوئے،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اجلاس میں شریک ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم بھی اجلاس میں شریک ہوئیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عتیق شاہ نے بطور متبادل رکن شرکت کی۔

اعلامیہ کے مطابق ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کیلئے کونسل نے اپنے ارکان کیخلاف شکایات کا جائزہ لیا،جوڈیشل کونسل کے ارکان کیخلاف شکایات کے جائزے کیلئے کونسل کی از سر نو تشکیل کی گئی،اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ اے ملک شریک ہوئے،متبادل ارکان کے طور پر وفارق آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کی، اجلاس میں تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز شریک ہوئے۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں 2 چھٹیوں کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ ہوا،ضلعی عدلیہ میں دوبارہ ہفتے میں 6 دن کام ہوگا۔

اعلامیہ کے مطابق لاپتہ افراد کے معاملے پر سیکرٹری قانون نے بریفنگ دی،سیکرٹری قانون کاکہناتھا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے پر نیا کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے،کمیشن سابق جج سپریم کورٹ جسٹس منظور احمد ملک اور رابعہ جویری آغا پر مشتمل ہوگا، کمیشن گرفتاری کے 24 گھنٹے میں گرفتار افراد کی عدالت پیشی کو یقینی بنائے گا، لاپتہ افراد کے تدارک کیلئے مجوزہ کمیشن کے ٹی او آرز اگلے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق یکم ستمبر 2025 سے 31 مئی 2026 تک ماتحت عدالتوں نے 13 لاکھ 19 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے، لاہور ہائیکورٹ 10 لاکھ 65 ہزار سے زائد کیسز نمٹا کر ملک بھر میں سب سے آگے رہی، پشاور ہائیکورٹ نے 1 لاکھ 23 ہزار،سندھ ہائیکورٹ نے 87 ہزار سے زائد کیسز کا فیصلہ کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ہزار، بلوچستان ہائیکورٹ نے 16 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے، ماڈل سول اور کریمنل کورٹس نے قلیل عرصے میں ساڑھے 24 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، بنکنگ مقدمات کے جلد فیصلے کیلئے اضافی بنکنگ عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں جھوٹی اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کیلئے پالیسی فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ ہوا،ہائیکورٹس کو کمپنی کیسز کیلئے خصوصی بنچ بنانے اور عدالتی عملے کی خالی آسامیاں فوری بھرنے کی ہدایت کی گئی، عدالتی افسران کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے شارٹ ڈپلومہ کورسز کرانے کا فیصلہ ہوا،لاہور ہائیکورٹ کا بائیو میٹرک تصدیق کا جدید طریقہ کار دیگر تمام ہائیکورٹس میں بھی بھیجنے کا فیصلہ ہوا،سپریم کورٹ میں 25 جولائی 2026 کو عدالتی فلاح پر نیشنل کانفرنس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ 

یہ بھی پڑھیں:صحت سہولت پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان