اکمل؛ پنجابی فلموں کے پہلے باقاعدہ مقبول ہیروکو بچھڑے 59برس بیت گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)پاکستانی فلم انڈسٹری کے ناموراداکار اکمل کومداحوں سے بچھڑے 59 برس بیت گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی فلم نگر کے درودیوار میں گردش کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
اکمل آغازمیں بطورمیک اَپ مین فلم انڈسٹری سے وابستہ تھے کہ اچانک قسمت کی دیوی ان پرمہربان ہوگئی اور وہ پنجابی فلم’’جبرو‘‘ کے ہیرو بن گئے جس نے ان پرکامیابیوں کے دروازے کھول دیئے،’’جبرو‘‘سے پہلے انہوں نے چند فلموں محبوبہ،قاتل،دلابھٹی میں معمولی کردار بھی کئے تھے لیکن ہدایتکارمظفرطاہر کی فلم ’’جبرو‘‘ نےان کیلئے کامیابیوں کے دروازے کھول دیئے،اس فلم میں یاسمین ان کی ہیروئین تھیں،’’جبرو‘‘میں انہوں نے ایسی اداکاری کی کہ فلم بینوں اورنقادوں کو ورطۂ حیر ت میں ڈا ل دیا جس کے بعدوہ فلم سازوں کی ضرورت بن گئے اورانہوں نے منہ مانگے معاوضے پریکے بعددیگرے فلمیں سائن کیں اس طرح اکمل کوپنجابی فلموں کا پہلا باقاعدہ مقبول ہیرو ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
ایک دور ایسا بھی آیاتھاکہ اکمل کو پنجابی فلموں کی کا میابی کی ضمانت سمجھاجاتاتھااوران کی پنجابی فلمیں نئے ریکارڈ قائم کررہی تھیں۔شیریں،لیلیٰ،مینا،فردوس ،نغمہ اورنیلوکیساتھ اکمل کی جوڑی بہت پسند کی گئی تھی بالخصوص اکمل اورفردوس نے نوجوان نسل کواپنا گرویدہ بنالیا،انہوں نے 65 کے قریب فلموں میں کام کیاجن میں 8اُردو اور57پنجابی فلمیں شامل ہیں۔
’’چوڑیاں‘‘ہدایتکارامین ملک کی مشہورزمانہ فلم تھی جس نے اکمل کوراتوں رات عروج پرپہنچادیا،اس فلم میں اکمل اور لیلٰی فن کی بلندیوں پرنظر آئے،’’چوڑیاں‘‘کے نام سے ہدایتکارالطاف حسین نے بھی1985ء میں ایک فلم بنائی جس میں علی اعجاز،ننّھااورانجمن فن کے عروج پرتھے،1997ء میں سیّدنور نے بھی’’چوڑیاں‘‘کے نا م سے فلم ریلیزکی جس نے کرا چی سے پشاور تک بزنس کے ریکارڈ توڑدیئے اورسالہاسال تک یہ فلم زیرنما ئش رہی یعنی’’چوڑیاں‘‘کے نام سے جب بھی فلم بنی وہ ضرورکامیاب ہوئی ۔
’’ملنگی‘‘کوپاکستانی’’مغل اعظم‘‘کہا جاتا ہے ،اس کے فلمسازاچھّاشوگروالاکہاکرتے تھے کہ’’ملنگی‘‘پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک ایسی فلم ہے جس نے پا کستان فلم انڈسٹر ی کا سرفخر سے بلند کیا اورمجھے جب بھی کبھی روپوں کی ضرورت پڑتی تومیں ’’ملنگی‘‘ریلیز کر دیتا اوریہ فلم مجھے مالامال کردیتی ،’’ملنگی‘‘1965میں رریلیزہوئی اور اس فلم نے پورے پاکستان میں کامیابی حاصل کی تھی اس کی کاسٹ میں مظہرشاہ،ساون،یوسف خان،منورظریف اورطالش جیسے فن کار شامل تھے جنہوں نے کمال کی اداکاری کی لیکن کوئی بھی فنکار اکمل کی دھول کو نہ چھو سکا۔
فلم ’’چاچاجی‘‘بھی اکمل کے کیریئرمیں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے ،اس فلم میں شہنشاہِ ظرافت منورظریف بھی پورے جوبن پرتھے ۔’’اکبرا‘‘اکمل اورفردوس کی سُپرہٹ فلم تھی جس میں اکمل شروع سے آخر تک چھائے ہوئے تھے،’’مفت بر‘‘میں اکمل کی ہیروئن مسرت نذیرتھیں اس فلم میں بھی مظہرشاہ اوراکمل عروج پرتھے۔
یہ بھی پڑھیں:نامور فلم ساز بھارتی راجہ 84 برس کی عمر میں چل بسے
اکمل لاکھوں لوگوں کوروتا چھوڑکر11جون 1967 کوخالق حقیقی سے جاملے،اکمل کے انتقال کے وقت بے شُمارفلمیں سیٹ پرتھیں جنھیں کہانی میں تبدیلی کرکے یا پھرافضل خان سے کام لے کرمکمّل کیا گیا ان فلموں میں روٹی،پنج دریا،میرا ویر،مقابلہ،شیرجوان،رن مرید،لال بجھکڑ ،غیرت مند،بہادرکسان اوریاردوست جیسی فلمیں شامل تھیں،اکمل مُسلم ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں آسودخاک ہیں۔