بلوچستان اسمبلی نے 31۔جنوری کے دہشت گرد حملوں میں ملوث گروہ کے خلاف قرارداد منظور کرلی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) بلوچستان اسمبلی نے 31۔جنوری کو صوبہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث گروہ کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
بلوچستان اسمبلی نے آج اجلاس صرف صوبے میں من امان پر بحث کی۔
اپوزیش اور حکومتی ارکان نے ملک اور صوبے میں ہونے والی دہشت گردی واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں۔ کسی کا باپ بھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔
بلوچستان اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مذاکرات اور ریاست کی رٹ پر بات کرتے ہوئے کہا، ریاست معصوم شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث عناصر سے کوئی رعایت نہیں برتے گی۔ تاہم سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں ایک کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صوبے میں دو الگ الگ مسائل ہیں: ایک سیاسی مسئلہ ہے اور دوسرا دہشت گردی۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔
سیاسی مکالمے سے انکار نہیں، دہشتگردوں سے رعایت نہیں، دہشتگرد بیرونی قوتوں کے پراکسی ہیں
سرفراز بگٹی نے ایوان کو بتایا: "ہم نے کبھی بھی سیاسی مکالمے سے انکار نہیں کیا۔ لیکن بندوق اٹھا کر معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کریں گے۔ دہشت گردی کو محرومیوں کا نام دے کر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔"
وزیرِ اعلیٰ نے کہا، گوادر میں پانچ مزدوروں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ ان غریب مزدوروں کا کیا قصور تھا۔ دہشت گرد اب بیرونی قوتوں کی "پراکسی" بن چکے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر میں 66 ارب روپے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور وہاں ایک بھی اسکول بند نہیں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ ترقیاتی عمل رکا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان میں دہشت گردوں کاپولیس پر حملہ، 4 اہلکار شہید، ڈی ایس پی زخمی
وزیرِ اعلیٰ نے آئینِ پاکستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین حقوق سے پہلے شہری کی ذمہ داریوں کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اسمبلی وہ جگہ ہے جہاں آئین اور قانون کی بات ہونی چاہیے، لیکن یہاں بعض اوقات اسمگلنگ جیسے غیر قانونی کاموں کی اجازت دینے کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔
انتخابی شفافیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سب پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ہم میرٹ پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ انتخابی تحفظات کو دہشت گردی کی پشت پناہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : بنوں میں پولیس سٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ پسپا، 3 دہشتگردجہنم واصل، 9 زخمی
سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئین کے بعد 'نیشنل ایکشن پلان' ملک کی بقا کے لیے سب سے اہم دستاویز ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو پیغام دیا کہ وہ ایک یونین کونسل بھی آزاد نہیں کرا سکے، تو وہ کس بنیاد پر ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں؟ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
یہ بھی پڑحیں : پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے: خواجہ آصف