کےپی اسمبلی کے ملازم کا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں غیرقانونی تعیناتی کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز) خیبرپختونخوا اسمبلی کے ملازم کا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں غیرقانونی تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے، آڈیٹر جنرل آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں تعینات آفیسر سعود گنڈاپورکی غیرقانونی تعیناتی ہوئی ہے۔
صوبائی اسمبلی سے سعود گنڈاپور کو ڈپوٹیشن پر ایکسائز ڈائریکٹوریٹ میں تعینات کیاگیا جن کے پاس صوبائی اسمبلی میں صرف 13 ماہ کا تجربہ تھا اور محکماتی امتحان پاس نہیں کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق قواعد کے برعکس سعود گنڈاپور کو اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ تعیناتی کے بعد ای آئی بی کا اضافی چارج بھی دیا گیا۔
پروموشن کے لیے محکمے کا امتحان پاس کرنا اور کم از کم 5 سال کا تجربہ ہوناضروری ہوتا ہے جب کہ سعود گنڈاپور ان شرائط پر پورا نہیں اترتے اور ان کی تعیناتی سے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین دو پوسٹوں سے محروم ہوئے ہیں۔
غیر قانونی تعیناتی سے ملازم کو تنخواہیں اور دیگر مراعات بھی غیر قانونی طور پر دی گئیں، آڈیٹر نے معاملے کی انکوائری ،ذمہ داری کا تعین اور اصلاحی اقدامات کی سفارش کی ہے۔
سعود گنڈاپور نے تحریری جواب میں کہا ہےکہ مجھ پر غلط طور پر اے پی ٹی رولز کی بنیاد پر کیس بنایا گیا، جو درست نہیں، سول سرونٹس کے ایک محکمے سے دوسرے میں پوسٹنگ، عارضی بنیادوں پر ڈپیوٹیشن پالیسی کے تحت ہوتی ہے۔ اے جی افس نے کیس اس بنیاد پر لیا ہےکہ مجھے صوبائی اسمبلی سے محکمہ ایکسائز میں تعینات کیا گیا ہے۔ اے جی افس نے اے پی ٹی رولز پر اپنے مشاہدات پر انحصار کیا جو درست نہیں۔
سعود گنڈاپور کے مطابق حکومت عام طور پر سرکاری ملازمین کو وقتاً فوقتاً ایک محکمے، سروس، کیڈر یا پوسٹوں سے دوسرے محکمے، سروس کیڈر یا عہدوں پر تعینات کرتی ہے۔ اس طرح کی پوسٹنگ میں ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر وقت کی پابندی کی جاتی ہے اور اے پی ٹی رولز کے تحت نہیں۔ عوامی مفادات میں اس طرح کی عارضی پوسٹنگ ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت کی جاتی ہے۔