نور سحر میں’’صفائی نصف ایمان، نظم و ضبط کامل ایمان‘‘ پر علمی و فکری نشست کا انعقاد
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا اور صحابہ کرامؓ کو عملی تربیت کے ذریعے طہارت اور نظم و ضبط کی تعلیم دی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پروگرام نورِ سحر میں ایک علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف اسلامی اسکالرز اور محققین نے "صفائی نصف ایمان، نظم و ضبط کامل ایمان" کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا اور صحابہ کرامؓ کو عملی تربیت کے ذریعے طہارت اور نظم و ضبط کی تعلیم دی۔
انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کی صفائی اور کشادگی اس لیے ضروری ہے کہ یہ دلوں کی وسعت اور روحانی طہارت کو اجاگر کرتی ہیں۔
پروفیسر زہراء مصطفیٰ نے کہا کہ طہارت انبیاء کرامؑ کی سنت ہے اور یہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، انہوں نے طہارت کے دس اصول بیان کیے جن میں ناخن کاٹنا، بال بنانا اور مسواک کرنا شامل ہیں۔
ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے اسلام اور دیگر مذاہب میں صفائی کے تقابلی جائزے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام نے صفائی کو ایک واضح اور جامع نظام کے طور پر پیش کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائنسی تحقیق بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ صاف ستھرا رہنے سے عمر میں اضافہ اور زندگی میں سکون آتا ہے۔
پروفیسر شجاعت علی خان نے کہا کہ جسمانی طہارت کے ساتھ ساتھ دل کی صفائی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کھانے کے آداب اور نظم و ضبط پر پرمغز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنت صرف پاکیزہ لوگوں کے لیے ہے۔
محمد جمیل ارشد نے کہا کہ آج کے دور میں ہوٹل انڈسٹری میں بھی صفائی کے معیارات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی لازمی ہے تاکہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔