ٹڈاپ میگا کرپشن کیس: سیدیوسف رضا گیلانی 9 مقدمات سے بری

 انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، 12 برس سے مقدمات چل رہے تھے،چیئرمین سینٹ

Jul 10, 2025 | 13:09:PM
ٹڈاپ میگا کرپشن کیس: سیدیوسف رضا گیلانی 9 مقدمات سے بری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) کراچی کی وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) میگا کرپشن کیس میں چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کو 9 مقدمات سے بری کر دیا۔
یوسف رضا گیلانی دیگر شریک ملزمان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے میگا کرپشن کے نو مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کو بری کرنے کا حکم دےدیا۔ 
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے ٹڈاپ کیس میں مجموعی طور پر 26 مقدمات درج کئے تھے، یوسف رضا گیلانی ان میں سے پہلے ہی 3 مقدمات سے بری ہو چکے تھے، جبکہ آج کے فیصلے کے بعد وہ کل 12 مقدمات سے بری ہو چکے ہیں۔
ٹڈاپ کرپشن کیس کی تحقیقات کا آغاز 2009 میں ہوا تھا جبکہ ایف آئی اے نے مقدمات 2013 میں درج کرنا شروع کئے، یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات کے حتمی چالان میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا، ملزمان کے خلاف بوگس کمپنیاں بنا کر فریٹ سبسڈی کی مد میں سات ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا۔
کراچی میں وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں میڈیا سے بات سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ سیدیوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر اپنے خلاف بنائے گئے میگا کرپشن مقدمات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، 12 برس سے مقدمات چل رہے تھے۔
انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ صدر مملکت کی تبدیلی یا ان کی صحت سے متعلق صرف افواہیں زیر گردش ہیں۔
چیئرمین سینٹ نے کہا کہ 12 برس سے کیس چل رہا تھا، جو پہلے طالبہ تھیں، آج بطور پراسیکیوٹر پیش ہوئیں۔
سیدیوسف رضاگیلانی نے کہاکہ حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ بھی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) نے کیا تھا، وہ چاہے تو فیصلہ واپس لے سکتی ہے، ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں، میں حکومت کا ترجمان نہیں ہوں،میں سب سے زیادہ مدت کیلئے وزیر اعظم رہا ہوں، متفقہ طور پر وزیر اعظم بنا اور بلا مقابلہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے مقاصد اور مفادات سے آگاہ ہیں :وزیرداخلہ محسن نقوی

اس موقع پر وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ 14-2013 میں 26 مقدمات بنائے گئے تھے، تمام مقدمات میں الزامات ایک ہی نوعیت کے تھے، یوسف گیلانی کے خلاف 50 لاکھ روپے لینے کا الزام ہے، وہ بھی براہ راست نہیں بلکہ زبیر نامی شخص کے ذریعے لینے کا الزام ہے، کسی گواہ نے نہیں کہا کہ پیسہ یوسف رضا گیلانی نے لیا، 3 کیسز میں انہیں عدالت نے پہلے بری کر دیا تھا، ہماری بریت کی درخواستوں میں عدالت نے 9 مقدمات میں بری کیا ہے،14 مقدمات میں ملزم کی بریت کے خلاف ایف آئی اے کی اپیل میں کیسز کا ریکارڈ ہائی کورٹ میں ہے، 14 کیسز میں گواہی نہیں ہوسکتی، ملزمان پیش ہوتے ہیں لیکن گواہ نہیں آتے، ہائی کورٹ کو اپیل پر جلدی فیصلہ کرنا چاہیے یا ریکارڈ واپس وفاقی اینٹی کرپشن بھیج دینا چاہیے۔