نیوروپیتھی قابلِ علاج مرض، بروقت تشخیص اور احتیاط سے معمول کی زندگی ممکن: پروفیسرڈاکٹر محسن ظہیر

ذیابیطس اعصابی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ،  ابتدائی علامات کو نظراندازکرنے سے مرض شدت اختیار کر سکتا ہے

Jan 10, 2026 | 14:57:PM
نیوروپیتھی قابلِ علاج مرض، بروقت تشخیص اور احتیاط سے معمول کی زندگی ممکن: پروفیسرڈاکٹر محسن ظہیر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز کے پروفیسر آف نیورولوجی ڈاکٹر محسن ظہیر نے کہا ہے کہ نیوروپیتھی (اعصابی کمزوری) ایک عام مگر قابلِ علاج مرض ہے، جس کی بروقت تشخیص، درست علاج اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے مریض دوبارہ معمول کی اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
پروفیسر محسن ظہیرنے کہاکہ نیوروپیتھی دراصل اعصاب کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا، جھنجھناہٹ، جلن، درد، کمزوری، چلنے میں دشواری اور توازن برقرار رکھنے میں مشکلات جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
پروفیسرڈاکٹر محسن ظہیر کے مطابق ذیابیطس نیوروپیتھی کی سب سے بڑی اور عام وجہ ہے، تاہم اس کے علاوہ وٹامن بی کی کمی، گردوں اور جگر کے امراض، بعض ادویات کے مضر اثرات، انفیکشنز اور موروثی عوامل بھی اس مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔ 
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ابتدائی علامات کو نظرانداز کیا جائے تو مرض شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے بروقت تشخیص نہایت اہم ہے، نیوروپیتھی کا علاج اس کی بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے، اگر ذیابیطس اس کا سبب ہو تو شوگر لیول کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا علاج کی بنیاد ہے، اس کے ساتھ درد کم کرنے کی ادویات، وٹامن سپلیمنٹس، فزیوتھراپی اور بعض کیسز میں مخصوص نیورولوجیکل علاج مؤثر ثابت ہوتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ مریض خود سے ادویات استعمال کرنے کے بجائے مستند ماہرِ نیورولوجی سے رجوع کریں۔

یہ بھی پڑھیں:سردیوں کی چھٹیوں میں اضافہ،سکول 19 جنوری سے کھلیں گے
پروفیسرڈاکٹر محسن ظہیر نے نیوروپیتھی سے بچاؤ کے لیے شوگر لیول کو قابو میں رکھنے، متوازن غذا خصوصاً وٹامن بی سے بھرپور خوراک کے استعمال، تمباکو نوشی سے پرہیز، باقاعدہ ورزش اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی تلقین کی اور کہا کہ عوام میں آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے نیوروپیتھی کے مریض نہ صرف اپنی علامات پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند اور فعال زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔