گھوڑے اب کریں گے انسانوں کا علاج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)دبئی کی تیز رفتار اور مصروف زندگی کے شور سے دور، شہر کے کنارے ایک نیا مرکز کرسٹلائن اِکوائن قائم کیا گیا ہے، یہ دبئی کا پہلا ایسا ادارہ ہے جہاں گھوڑے انسانی ذہن اور جسمانی توازن کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، یہاں آنے والے افراد خاموشی، یوگا، سانس کی مشق اور گھوڑوں کی موجودگی کے ذریعے راحت و سکون محسوس کر تے ہیں۔
کرسٹلائن اِکوائن کا بنیادی تصور یہ ہے کہ گھوڑے انسان کی اندرونی کیفیت کو آئینہ دکھانے والی فطری مخلوق ہیں، ان کی موجودگی انسان کے اعصابی نظام کو پرسکون کرتی ہے، دباؤ کم کرتی ہے اور جذباتی و ذہنی شفا کے عمل کو قدرتی طور پر متحرک کرتی ہے،یہ جگہ شہر کے شور سے دور انسان اور گھوڑوں کے درمیان ایک خالص، غیر مشروط اور غیر نمائشی تعلق قائم کر کے سکون اور شفا کا احساس دلاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ سینٹر دبئی کا پہلا الگ نوعیت کا ذہنی اور جسمانی ویلنیس سینٹرہے جو گھوڑوں کو سکون اور شفا کے ساتھی کے طور پر پیش کرتا ہےجبکہ اس سینٹر میں گھوڑوں کے ذریعے انسانوں کی تھراپی کی جائے گی، یہ منفرد تصور جے ایس آر ایکویسٹرین سینٹر کے احاطے میں قائم کیا گیا ہے، جہاں گھوڑے آزادانہ گھومتے ہیں، کسی شیڈول کے پابند نہیں، وہ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کب قریب آنا ہے اور کب فاصلے سے مشاہدہ کرنا ہے، یہی آزادی اس تجربے کی روح ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا میں تربیتی طیارہ چلتی گاڑیوں سے ٹکرا گیا، ویڈیو وائرل
اس محفوظ اور پرسکون سینٹر کی بانی کیلیفورنیا کے جوائے ڈیزمنڈ ہیں، جن کا سفر ایک بے حد دباؤ والی کارپوریٹ زندگی سے شروع ہوا اور پھرذاتی تجربات اور گھوڑوں کے ساتھ لندن میں فلاحی ادارے ”اسٹرینتھ اینڈ لرننگ تھرو ہارسز“ میں رضاکارانہ کام کے ذریعے شفا اور آگہی کی طرف مڑ گیا،گھوڑوں کے ذریعے تھراپی کے تجربات نے انہیں یہ سمجھایا کہ گھوڑے انسان کے جذبات، خوف اور تناؤ کو بغیر کسی فیصلے کے محسوس اور منعکس کرتے ہیں۔
وہاں انہوں نے ایسے مناظر دیکھے جو کسی کتاب میں درج نہیں ہوتے۔ خاموش بچے جو گھوڑے کے پاس آ کر مسکرا اٹھتے تھے۔ وہ افراد جنہوں نے کبھی تحفظ محسوس نہیں کیا تھا، گھوڑوں کے درمیان سکون پا لیتے تھے۔ حتیٰ کہ قیدی، جو برسوں اپنے احساسات چھپائے رکھتے تھے، ایک گھوڑے کی موجودگی میں خود کو سمٹتا ہوا محسوس کرتے تھے۔ ڈیزمنڈ کے لیے یہ محض مشاہدہ نہیں بلکہ ایک داخلی بیداری (Awareness) تھی۔
وہ یہ سمجھنے لگیں کہ گھوڑے انسان کو اس کی باتوں سے نہیں بلکہ اس کی کیفیت سے پہچانتے ہیں۔ ان کے لیے نہ ماضی اہم ہے نہ شناخت، وہ صرف انرجی کو پڑھتے ہیں، یہی احساس انہیں اس خیال تک لے آیا کہ گھوڑے شفا کے خاموش مگر طاقتور ساتھی ہو سکتے ہیں۔