ساؤنڈ ایکٹ — فنکاروں کی آواز کب سُنی جائے گی؟

تحریر ...زین مدنی حسینی

Dec 10, 2025 | 23:15:PM
ساؤنڈ ایکٹ — فنکاروں کی آواز کب سُنی جائے گی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی ثقافتی سرزمین ہمیشہ موسیقی اور فنونِ لطیفہ کی روشنیوں سے جگمگاتی رہی ہے، مگر حالیہ دنوں ساؤنڈ ایکٹ کے سخت نفاذ نے گلوکاروں اور میوزیشنز کے لیے صورتحال نہایت سنگین بنا دی ہے۔ پنجاب بھر میں گلوکاروں کے فنکشنز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، جس سے نہ صرف گلوکار بلکہ وہ تمام افراد بھی شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں جو ساؤنڈ سسٹمز، لائٹس اور میوزک ایونٹس کے ذریعے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ ایسے میں معروف گلوکارہ حمیرا ارشد، گلوکار مشتاق چھینہ اور دیگر فنکاروں نے گزشتہ روز صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری سے ملاقات کی۔

 اس ملاقات میں وہ افراد بھی شامل تھے جن کا روزگار ساؤنڈ سسٹمز چلانے سے وابستہ ہے اور جو ساؤنڈ ایکٹ کی پابندیوں کے باعث مکمل طور پر بے روزگار ہو چکے ہیں۔ فنکاروں نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ تقریبات اور ثقافتی سرگرمیوں میں آواز کے بغیر نہ فن ممکن ہے اور نہ روزگار۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ صورتحال فنکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر رہی ہے اور ایونٹ انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر چکی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے فنکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس مسئلے کو حکومت پنجاب کے سامنے سنجیدگی سے رکھیں گی اور بہت جلد اس کا عملی حل نکالا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت فنکاروں کی اہمیت سے آگاہ ہے اور کسی صورت نہیں چاہتی کہ ثقافت اور روزگار دونوں متاثر ہوں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ یقین دہانی صرف رسمی گفتگو ثابت ہوگی یا واقعی پنجاب میں موسیقی اور فنونِ لطیفہ کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی؟ سیکیورٹی اور شور کی روک تھام کے قوانین اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر جب قانون کسی طبقے کا روزگار چھیننے لگے تو اس میں لچک پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن جاتا ہے۔ ساؤنڈ ایکٹ کے حوالے سے بھی یہی صورتحال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فنکاروں کے ساتھ بیٹھ کر ایسا مؤثر، قابلِ عمل اور باعزت حل نکالے جو فنکاروں کی معاشی مشکلات بھی دور کرے اور قانون کی پاسداری بھی برقرار رہے۔ کیونکہ فنکار معاشرے کی آواز ہوتے ہیں، اور اگر ان کی آواز ہی بند ہو جائے تو معاشرہ خاموش اور بے رنگ ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ اس بار فنکاروں کی یہ آواز واقعی سنی جائے گی اور پنجاب کے ثقافتی رنگ ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ لوٹ آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں؛دلہن نے شادی کے3 دن بعد دولہےکو طلاق بھیج دی،کونسی گھناؤنی بات ہوئی۔۔؟