غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آئین میں گورنر راج موجود ہے، قمر زمان کائرہ
تحریک انصاف سے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ کہتے ہیں بانی سے بات چیت کی جائے، طاہر خلیل سندھو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر کسی صوبے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوجائے تو اس سے نمٹنےکیلئے آئین میں گورنر راج کا آپشن دیا گیا ہے ۔
24نیوز کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہناتھا کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں میں مذاکرات ہونے بہت ضروری ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت جمہوری رویےکا مظاہرہ نہیں کر رہی وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتی اور وہ فوج پر حملہ آور ہے اور فوج کے سربراہ پر حملہ کیا جائے تو فوج اپنے سربراہ پر حملہ فوج کے اوپر حملہ تصور کرتی ہے ۔اگر خان صاحب نے اپنے لیے مفاہمت کے راستے سیاست کے راستے اورآگے بڑھنے کے راستے بند کر دیئے ہیں تو ہمارے پاس تو اس کی چابی نہیں ہے ۔
قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ بانی تحریک انصاف جو اس وقت تحریک انصاف کے سربراہ نہیں ہیں وہ ایک سزا یافتہ قیدی ہیں جو اپنی سزا کاٹ رہے ہیں اس کے باوجود وہ صرف گالیاں دیتے ہیں اور بد زبانی کرتے ہیں ۔ان کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ جب سیاسی قوتیں اکٹھی ہوں تو وہ سیاسی سپیس بناتی ہے اور اگر سیاسی جماتیں اکٹھی نا ہوں تو پھر تیسری قوت کے لیے اسپیس بنتی ہے ۔اگر تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ وہ خود سے انقلاب لا سکتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے ضرور لائیں لیکن ابھی تک کی ان کی سیاست نے ناصرف خود کو ہائی جیک کیا ہوا ہے بلکہ اس نفرت کی آندھی نے پورے ملک کو جکڑا ہوا ہے ۔ایک ہی بات کرتے ہیں کہ معیشت بیٹھ گئی ہے جبکہ حکومت کچھ بھی کر لے اپوزیشن اس کو نہیں مانے گی۔ قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ خیبر پخونخوا کے حالات بہت خراب ہیں یہاں تک کے کے پی کے تمام وزیر وں سے بھتے لیے جاتے ہیں ،اگر کسی صوبے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوجائے تو اس سے نمٹنے کیلئے آئین میں گورنر راج کا آپشن دیا گیا ہے ۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن یہ کہتے ہیں کہ بانی تحریک انصاف سے مذاکرات کیے جائیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک قیدی سے حکومت کیسے مذاکرات کر سکتی ہے کس ملک میں کسی قیدی سے سیاسی مذاکرات کیے جاتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ملاقات کرائی جائے ہائی کورٹ نے جیل رول کے مطابق ملاقات کی اجازت دی تھی لیکن ملاقات میں سیاسی باتیں ہوئیں بہنوں نے باہر آکر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی ۔یہ کہتے ہیں کے ان سے مذاکرات کیے جائیں لیکن کس سے مذاکرات کیے جائیں اگر بیرسٹر گوہر سے مذاکرات کیے جائیں تو ان کا سوشل میڈیا ان کو ٹرول کرنے میں لگ جائے گا۔
پروگرام میں شامل تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یہ کہتے ہیں پاکستان تحریک انصاف جمہوری رویہ اختیار نہیں کر رہی تو پاکستان تحریک انصاف تو ایک نئی جماعت ہے یہ دونوں پارٹیاں تو بہت پرانی پارٹیاں ہیں ،مولانا فضل الرحمان سمیت نواز شریف،بینظیر بھٹو سب کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ملک کے لیے خطرہ ہیں تو کیا ان سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے ؟یہ دونوں پارٹیاں ہر وہ کام کر رہی ہیں جو میثاق جمہوریت میں کہا گیا تھا کہ اب نہیں کیا جائے گا۔آج وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ معیشت بہت اچھی ہو گئی ہے جب کہ اس کے برعکس جو ٹریڈ ڈیفیسیٹ ہے وہ ڈبل ہوگیا ہے امپورٹ ڈبل ڈیجٹ میں ہوگئی ہے اور ایکسپورٹ اور بھی کم ہو گئی ہے ۔ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بدتریں بحران آیا ہوا ہے 100 سے زائد اسپننگ ملز بند ہوگئی ہیں آپ کہہ رہے ہیں کہ معیشت بہتر ہوگئی ہے جبکہ انڈیکیٹرز کے مطابق حالات اس کے برعکس ہیں ۔