بلوچستان اسمبلی ،ژوب ائیر پورٹ کو  بحال کرنےسمیت2قراردادیں پیش

May 09, 2025 | 18:39:PM
 بلوچستان اسمبلی ،ژوب ائیر پورٹ کو  بحال کرنےسمیت2قراردادیں پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عیسیٰ ترین) بلوچستان اسمبلی میں ژوب ائیر پورٹ  کو بحال کرنے اور بارڈر پر رہنے والے لوگوں کو مراعات دینے سے متعلق قرار داد پیش کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان فضل قادرمند و خیل نے ژوب ائیر پورٹ  کو بحال کرنے کی قرارداد ایوان میں پیش کردی، قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہژوب ائیر پورٹ جو کہ ایک طویل عرصے سے قائم ہے جہاں سے لوگ کوئٹہ اور ملک کے دیگر شہروں کے لئے سفر کرتے تھے،نامعلوم وجوہات کی بنا ژوب ائیر پورٹ سے ایک طویل عرصہ سے پی آئی اے کی پروازوں کا سلسلہ معطل ہو چکا ہے،شنید میں آیا ہے کہ ژوب ائیر پورٹ سے پروازوں کوبحال کرنے کی بجائے وہان  پی آئی اے کے دفتر کو بھی بند کیا جا رہا ہے، علاقے کے لوگوں میں مقامی طور پر پی آئی اے کے ٹکٹس کے حصول کی بابت سخت اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے،ضلع ژوب اور شیرانی کے لوگوں کی اکثریت خلیجی ممالک میں روزگار کے سلسلے یں مقیم ہیں جوکو  وطن واپسی پر طویل اور تکلیف دہ سفر طے بعد اپنے گھروں کو پہنچتے ہیں ،ژوب ائیر پورٹ پر قائم پی آئی اے کے دفتر کو ختم کرنے کے ارادے کو  ترک ائیر پورٹ سے ملک کے دیگر شہروں کے لئے حسب سابق پی آئی اے کی ہفتہ وار پروازوں کو شروع کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

 رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بارڈر پر رہنے والے لوگوں کو مراعات دینے سے متعلق قرار داد پیش کردی ہے ، قرارداد کےمتن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے،صوبائی حکومت اپنے وسائل سے صوبہ کے جتنے نو جوانوں کو ملازمت فراہم کر رہی ہے ان کی تعداد نہ ہونے کی برابر ہے،بلا شبہ بارڈر کے روزگار سے لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہیں،چمن سے لیکر گو ادر تک ایک انداز ےکے مطابق 25 سے 30لاکھ افراد بارڈر پر کاروبارکرتے  ہیں ،  افغانستان و ایران کے لوگوں کی نہ صرف بلوچستان کے ساتھ ہمسائیگی ہے بلکہ ان کے آپس میں خونی رشتہ داریاں بھی ہیں،بارڈر کے لوگ غم و خوشی کے مواقعوں پر آنا جانا معمول کی بات ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے انکی آپس کی رشتہ داریاں بھی متاثر ہو چکی ہیں،بلوچستان کے بارڈر کے لوگوں کا ذریعہ معاش اپنی جگہ بلکہ کئی مقامات پرمویشیوں کی چراگاہیں بھی ہمسایہ ممالک میں ہیں ،اشیاء خوردنوش کا ذریعہ بھی ہمسایہ ممالک سے ہے،صوبائی حکومت بارڈر ایریاز  عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھ کر وفاقی حکومت کے ساتھ ذیل اقدمات اٹھانے کو یقینی بنائے ،

چمن سے لے کر گوادر تک کراسنگ پوائنٹ کھولے جائیں،بارڈر پر ٹوکن کی بجائے شناختی کارڈ کے ذریعہ روزگار کرنے کی اجازت دی جائے،ایران کے بارڈر سے اشیاء خورد ونوش لانے کی اجازت دی جائے،
بارڈر پر رہنے والوں کو خوشی اور غم کے موقع پر راہداری کے ذریعے آنے جانے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:خضدار اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے