لارڈ نذیراحمد کیخلاف جنسی الزامات کا کیس 50سال بعد ختم

Mar 09, 2021 | 22:34:PM
لارڈ نذیراحمد کیخلاف جنسی الزامات کا کیس 50سال بعد ختم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) 50 برس پرانے جنسی الزامات نے تین افراد کو مشکل میں ڈالا، کراﺅن پراسیکیوشن سروس کے “شرمناک” اقدامات کے سبب کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی، جج جیریمی رچرڈسن۔

تفصیلات کے مطابق شیفیلڈ کراﺅن کورٹ کے جج جیریمی رچرڈسن نے 26 فروری کو مقدمہ کی جیوری کو فارغ کردیا تھا، جج نے لارڈ احمد کے کیس کی رپورٹنگ پر مقدمہ کا فیصلہ آنے تک پابندی عائد کردی تھی ۔ لارڈ احمد اور ان کے بھائیوں پر قریبی رشتہ دار بہن بھائی 50 برس قبل جنسی حملے کرنے کے الزامات عائد کئے تھے۔
جج جیریمی رچرڈسن کا کہنا ہے کہ کراون پراسیکیوشن سروس نے مقدمہ “سبوتاڑ” کیا، اس کے انکشافات کا عمل “شرمناک” تھا، لارڈ احمد کے خلاف بروقت اہم شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔کیس کی مناسب تحقیقات بھی نہیں کی گئی، دعویداروں کو ثبوتوں کو ضائع کرنے اور “آلودہ” کرنے کی اجازت دی گئی۔
 جج نے کہا کہ حیران ہوں کہ کس طرح 50 سال پرانے شواہد لارڈ نذیر احمد پر ظاہر کئے گئے، الزامات لگانے اور دفاع کرنے والوں کی عمر میں زیادہ فرق نہ ہونے کے سبب کیس زیادہ مضبوط نہیں تھا۔
لارڈ احمد کے علاوہ ان کے بھائیوں پر بھی جنسی حملوں کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ لارڈ احمد اور ان کے بھائی روز اوّل سے ان الزامات کی صحت سے انکار کر رہے تھے ۔
لارڈ نذیر احمد کا کہنا ہے کہ کینہ کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی کے خلاف قانونی مشورہ حاصل کررہا ہوں۔